ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد : غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کیخلاف بڑی کامیابی، دو اہم ملزم گرفتار

اسلام آباد : غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کیخلاف بڑی کامیابی، دو اہم ملزم گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کرلی، کارروائی کے دوران دو اہم ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ 

مطلوب مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں سے گرفتار کیا گیا، دونوں ملزمان  مالی طور پر کمزور اور مستحق افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر اعضا خریدتا تھے۔ ایف آئی اے نے اسی مقدمے میں اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر اور اس کی ٹیم کو بھی گرفتار کیا تھا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر تقریباً 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا ہے۔ اس منظم نیٹ ورک کے ذریعے ہر گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض ریسیپینٹس سے 60 لاکھ روپے جبکہ بعض کیسز میں ایک کروڑ روپے تک وصول کیے جاتے تھے، گردہ عطیہ کرنے والے غریب، افراد کو محض چند لاکھ روپے ادا کر کے باقی رقم نیٹ ورک کے مختلف ارکان میں تقسیم کی جاتی تھی۔ مرکزی ایجنٹ شبیر حسین اپنے ماتحت سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے نادار لوگ منتخب کرتے تھے ۔ 

ایجنٹس خصوصاً بھٹہ خشت کے مزدوروں، دیہاڑی دار افراد اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو معمولی مالی لالچ دے کر گردہ عطیہ کرنے پر آمادہ کرتا تھے۔ ایجنٹ مبینہ طور پر 50 سے زائد گردہ ڈونرز ڈاکٹر نادر کو فراہم کر چکا تھا۔

ڈاکٹر نادر ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) سے مبینہ طور پر جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی دستاویزات کے ذریعے منظوری حاصل کرتا رہا ۔ ڈاکٹر نادر کا مبینہ نیٹ ورک صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں تھا بلکہ افغان، چینی اور سعودی شہریوں کے گردہ ٹرانسپلانٹس میں بھی ملوث رہا ہے۔ 

 ایف ائی اے غیر ملکی مریضوں کے ریکارڈ، مالی لین دین اور دیگر شواہد کا فرانزک اور قانونی تجزیہ کر رہا ہے ۔ گرفتار مرکزی ملزم شبیر حسین کے خلاف ماضی میں بھی ایف آئی اے کے مختلف سرکلز میں متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ ایف آئی اے نے پہلی مرتبہ اسے گرفتار کر کے اپنی تحویل میں لیا ہے۔