ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پٹرول پر ٹیکس سے کھربوں کی وصولی،حکومت کی ریکارڈ آمدن

پٹرول پر ٹیکس سے کھربوں کی وصولی،حکومت کی ریکارڈ آمدن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:حکومتی دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی گیارہ ماہ  کے دوران پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1,430 ارب روپے سے زائد رقم جمع کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقررہ ہدف 1,468 ارب روپے حاصل ہونے کے بعد مالی سال کے اختتام تک تقریباً 100 ارب روپے اضافی وصولیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران، جب عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی صورت میں 373 ارب روپے سے زائد وصول کیے۔ مجموعی طور پر رواں مالی سال کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 600 ارب روپے زیادہ رہی ہیں۔

ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں 157 ارب روپے، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ، اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ، نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ، دسمبر میں 162 ارب 46 کروڑ، جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ، مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ، اپریل میں 146 ارب اور مئی میں تقریباً 87 ارب 50 کروڑ روپے لیوی کی مد میں حاصل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی سے مئی تک درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر 686 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ملک میں خام تیل کو ریفائن کرکے تیار ہونے والی مصنوعات پر 753 ارب 54 کروڑ روپے سے زیادہ پٹرولیم لیوی وصول کی گئی۔

ذرائع کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 50 ارب روپے اور مقامی ریفائننگ کے ذریعے حاصل ہونے والی مصنوعات پر 37 ارب روپے لیوی کی مد میں جمع ہوئے۔ آئندہ مالی سال میں اس مد میں موجودہ سال کے مقابلے میں مزید 260 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے فنانس بل اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ اہداف سے بڑھ کر لیوی عائد کی، جبکہ سخت نگرانی اور نفاذی اقدامات کے باعث بھی محصولات میں اضافہ ہوا۔

مزید برآں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز ونگ کی کارروائیوں کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی۔ ملک بھر میں 1,576 غیر قانونی پٹرول پمپس کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 1,442 کو سیل کر دیا گیا، جس سے قانونی فروخت اور لیوی وصولیوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔