سٹی42: حماس چند دن کے اندر اپنے ایک اور اہم کمانڈر سے محروم ہو گئی۔ حماس کی مجاہدین بریگیڈ کے لیڈر کو بھی اسرائیل کی فوج نے آج حملے میں مار دیا۔
آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ مجاہدین بریگیڈز کے رہنما اسد ابو شریعہ کو آج صبح غزہ شہر میں اسرائیلی حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔
فلسطینی میڈیا نے صبرا کے محلے میں ہونے والے حملے میں 30 سے زائد افراد کے مرنے کی اطلاع دی ہے۔
IDF کے مطابق، ابو شریعہ نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی زیر قیادت حملے کے دوران کبوتز نیر اوز پر حملہ کیا تھا اور وہ بیباس خاندان کے افراد سمیت شہریوں کے اغوا اور قتل میں "براہ راست ملوث" تھا۔
آئی ڈی ایف نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں حملوں کے پیچھے بھی ابو شریعہ کا ہاتھ تھا اور اس نے فلسطین کے علاقے مغربی کنارے سے اسرائیل پر حملوں کی ہدایت کی تھیں۔
مجاہدین بریگیڈ غزہ پٹی میں حماس کا ایک نسبتاً چھوٹا دہشت گرد گروپ ہے۔
یہ گروپ ہی دو بچوں کی ماں نوجوان خاتون شیری بیباس اور اس کے دو جوان بیٹوں ایریل اور کفیر کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار تھا۔ اس گروپ نے کئی دوسرے یرغمالیوں کو بھی مارا جن میں گادی ہگائی، اور جوڈیتھ وائن سٹائن؛ اور تھائی یرغمال نٹاپونگ پنٹا شامل ہیں۔ IDF کو یقین ہے کہ یہ گروپ فی الحال ایک اور غیر ملکی کی لاش کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی فوج نے ہفتہ کی شب اعلان کیا ہے کہ آج غزہ میں ایک الگ حملے میں مجاہدین بریگیڈ کا ایک اور سرکردہ رکن محمود کاہیل ہلاک ہو گیا۔ حماس نے اس کی موت کا اعلان بھی کیا۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ کاہیل بھی 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل کے گاؤں نیر اوز میں دراندازی کرنے والوں مین نمایاں تھا، اور وہ بیباس خاندان کے افراد کو قید میں رکھنے میں ملوث تھا۔
شیری بیباس اور ان کے دو بہت چھوٹے بچوں کو اغوا کرنے کے بعد غزہ لے جا کر قید کے دوران مار دیا گیا تھا۔ بعد میں حماس نے یرغمالیوں کی واپسی کے عوض 42 دن کی جنگ بندی کے دوران شیری بیباس کی اور ان کے دو بچوں کی لاشیں اسرائیل کو واپس کیں۔