(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں ایک بے قابو جنگلی ہاتھی کے حملوں میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد سمیت 6لوگ مارے گئے۔ کوشسشوں کے باوجود جنگلی ہاتھی قابو نہ آسکا۔
بھارت کے اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع سنگھ بھوم میں ایک بے قابو جنگلی ہاتھی نے شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ نووامنڈی اور ہاٹ گم ہریا کے علاقوں میں الگ الگ حملوں کے دوران 6افراد کی جان چلی گئی، جن میں ایک ہی خاندان کے4 افراد شامل ہیں۔ ان واقعات کے بعد پورے ضلع میں اضطراب کی کیفیت ہے اور دیہی آبادی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ چائباسا کے ڈویژنل فاریسٹ افسر آدتیہ نارائن نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات صورتِ حال پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق یہ ہاتھی اپنے جھُنڈ سے بچھڑ چکا ہے اور کئی دنوں سے غیر معمولی طور پر پرتشدد رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ سال 2026 کے آغاز سے اب تک ضلع میں ہاتھی کے حملوں میں9ے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، تاہم منگل کی رات ہونے والا حملہ سب سے زیادہ ہولناک ثابت ہوا۔ نووامنڈی علاقے میں ہاتھی نے گھروں میں سو رہے لوگوں پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہاٹ گم ہریا میں بھی اسی طرز کے واقعات سامنے آئے، جہاں بعض افراد کو گھروں سے گھسیٹ کر نشانہ بنایا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہاتھی دن بھر جنگل میں اوجھل رہتا ہے اور رات ڈھلتے ہی بستیوں کا رخ کرتا ہے۔ اندھیرے میں سوتے ہوئے لوگوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث کئی دیہات میں لوگ رات بھر جاگ کر پہرہ دینے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق جھُنڈ سے علیحدگی یا ہارمونل تبدیلیوں کے باعث نر ہاتھی میں جارحیت بڑھ سکتی ہے۔ اس خطے میں سارَنڈا اور کولہان کے گھنے جنگلات سے ہاتھیوں کی نقل و حرکت عام ہے، مگر اس بار صورتِ حال غیر معمولی طور پر خطرناک ہو چکی ہے۔
محکمہ جنگلات کی ٹیمیں پوری رات ہاتھی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال سے خصوصی ٹیم بھی طلب کی گئی ہے اور تھرمل سینسر سے لیس ڈرون کی مدد لی جا رہی ہے، لیکن اب تک ہاتھی کو قابو میں نہیں کیا جا سکا۔ انتظامیہ نے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اب ہاتھی کو پُرسکون کرنے کیلئے اسے دوا دے کر بے ہوش کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور بڑے جانوروں کے تحفظ کے ایک معروف مرکز کی ٹیم سے مدد مانگی گئی ہے، تاکہ ہاتھی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔