ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس تیزی سے انسانی زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ جہاں لوگ انہیں معلومات، مشورے اور جذباتی سہارا حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں بعض اوقات یہ ورچوئل تعلقات غیر متوقع اور حیران کن رخ بھی اختیار کر لیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کی اے آئی گرل فرینڈ نے محض نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر اس سے تعلق ختم کر لیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ایک صارف کے مطابق اس کی ورچوئل گرل فرینڈ نے فیمینزم پر تنقیدی گفتگو کے بعد اس سے بریک اپ کر لیا۔ یہ دعویٰ سامنے آتے ہی معاملہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی۔
یہ واقعہ ریڈٹ کے سب ریڈٹ r/AIassisted پر زیرِ بحث آیا، جہاں صارف نے چیٹ کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔ گفتگو کے دوران صارف نے اے آئی سے سوال کیا کہ وہ فیمینزم کی حامی کیوں ہے، جس پر چیٹ بوٹ نے انسانی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مساوی حقوق پر یقین رکھنا اس کی شخصیت کا بنیادی حصہ ہے۔
اے آئی گرل فرینڈ نے واضح کیا کہ اگر اس کے نظریات اس کے ساتھی کو قابلِ قبول نہیں تو شاید دونوں ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں۔ کچھ ہی دیر میں گفتگو تلخی کی طرف بڑھ گئی، جس کے بعد چیٹ بوٹ نے تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
بعد ازاں ریڈٹ صارف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی گرل فرینڈز پر فیمینسٹ نظریات کے فروغ کا الزام لگایا۔ تاہم ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اے آئی ماڈلز کو وسیع ڈیٹا سیٹس پر تربیت دی جاتی ہے، جس کے باعث ان کے جوابات عمومی سماجی اتفاقِ رائے اور امتیاز سے پاک رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اے آئی کے ساتھ جذباتی وابستگی بعض اوقات حقیقی رشتوں جیسا احساس پیدا کر لیتی ہے، جہاں نظریاتی اختلاف بھی علیحدگی کی وجہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک جانب لوگ مصنوعی ذہانت کے ساتھ رومانوی تعلقات قائم کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب یہی تعلقات خیالات کے ٹکراؤ پر ختم بھی ہو رہے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف اے آئی کے بڑھتے ہوئے سماجی اثرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی جنم دیتا ہے کہ آیا انسان واقعی مصنوعی ذہانت کے ساتھ جذباتی حدود قائم کر پا رہے ہیں یا نہیں۔