ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محسن نقوی نے 117 دنوں میں ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا

Qaddafi Stadium, Qazafi Stadium
کیپشن: وزیراعظم شہباز شریف لاہور میں قذافی سٹریڈیم کی تعمیر نو مکمل ہونے کے بعد سٹیڈیم کے افتتاح کی تقریب مین خطاب کر رہے ہیں۔ یہ سکرین شوٹ سٹی42 کی لائیو ٹرانسمشن سے لیا گیا

ہمسایہ ملک کی ٹیم کو شکستِ فاش دے کر چوبیس کروڑ دَل جیت لیجئے، وزیراعظم شہباز کی نئے قذافی سٹیڈیم کے افتتاح کے بعد خطاب میں گرین شرٹس سے درخواست، وزیراعظم نے دبئی مین بھارت کے ساتھ پاکستان کے میچ میں خود بھی جانے کا عندیہ دے دیا،دبئی میچ میں مجھے بھی لے کر جائیں، محسن نقوی سے فرمائش

سٹی42: محسن نقوی نے 117 دنوں میں ناممکن کام کو ممکن کر دکھآیا۔ یہ بات وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں قذافی سٹیڈیم کی تعمیرِ نو کے  بعد آج شام افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آج شام قذافی سٹیڈیم کا افتتاح کیا تو  نو تعمیر شدہ سٹیڈیم کو دیکھنے کے لئے لاہور کے ہزاروں شہری وہاں موجود تھے۔وزیراعظم شہباز نے قومی ٹیم سے کہا، اب چیمپئینز ٹرافی آپ کی منتظر ہے۔ اللہ تعالی آپ کی مدد کرین گے، چیمپئینز ٹرافی جیت کر آپ نہ صرف پوری قوم کے ہیرو ہوں گے بلکہ ہمارے ہمسایہ کو شکستِ فاش دے کر آپ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کے دل بھی جیت لیں گے۔

وزیراعظم شہباز نے دوبئی مین ہمسایہ ملک کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے میچ کا حوالہ دیتے ہوئے محسن نقوی سے فرمائش کی کہ دبئی میں جو میچ ہونا ہے وہاں مجھے بھی لے چلیں۔ 

 وزیر اعظم نے کہا کہ محسن نقوی اچھا کام کر کےلندن کی سیر کراتے ہیں  اب میں چاہوں گا کہ یہ  لندن لے کے جائیں ان کو سیر کرائیں اور ان کو بہت اچھی طرح شاباش  ہے ہہاں پر وزیراعلی پنجاب نے کی تعمیر نو میں مدد کی ہے میں آپ کا بھی اور  کیبنٹ  پنجاب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ نے ایک آدھا دنوں میں کام کیا ہے تو شہباز شریف صاحب ماضی کی بات ہے، میں اس حوالے سے بات کرتا ہوں اب وقت ہے گورنمنٹ آف پنجاب میں آپ نے جو مجھے کام  کیامین کی بڑی تعریف کی ہے  اور اچھے طریقے سےفیڈرل کو چلا رہے ہیں میں پاکستان کرکٹ ٹیم آپنے مائنڈ کھلاڑیوں کو آپ سب کو میں دل کی اتاگہرائیوں سے آپ کو شاباش اور مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے حالیہ مہینوں میں بہت اعلی کرکٹ کھیلی، آپ نے پوری قوم کاآپ نے دل جیتا اور اب چیمپینز ٹرافی آپ کی جیت کی منتظر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ بہت اچھے  کھلاڑی ہیں چاہے بیٹس مین چاہےبولر چاہے وکٹ کیپر ، یقینا انشاءاللہ اللہ تعالی آپ کی مدد کریں اور چیمپئنز ٹرافی جیت کر نہ صرف آپ پوری قوم کے ہیروز ہوں گے  بلکہ  جو ہمارا ہمسایہ ہے اس کو شکست دے کر آپ 24 کروڑ عوام کے دل جیتیں گے۔ میں آپ ہم سب آپ کے لیے دعا گو ہیں اور ہم انشاءاللہ انتظار کریں گے جب آپ ہندوستان کو آپ شکست  دیں گے انشاءاللہ۔ اب پتہ نہیں دبئی میں میچ ہونا ہے کہاں میچ ہونا ہے ۔ تو بھائی نے مجھے بھی آپ لے چلیں انشاءاللہ پھر وہاں پر ان کی بازی دیکھیں گے ۔انشاءاللہ اعظم  صاحب آپ سے بڑی توقع ہے ۔ کہاں ہے اور رضوان صاحب کہاں ہیں آپ سے بڑی توقع ہے انشاءاللہ افریدی صاحب آپ اپنے فادر  ان لا کے نقش قدم پہ چلیں اور وکٹوں کے انبار لگا دیں آپ انشاءاللہ اس طریقے سے میں اپنی ٹیم کا چیمہ صاحب جو پنجاب کے چیف سیکرٹری رہے ہیں میرے ٹینور میں بہت اچھے ادمی ہیں اور مجھے امید ہے کہ قیمت آپ کو ہر وقت ان کو انکریج کریں گے۔ اور فتح  انشاءاللہ اللہ تعالی پاکستان کی جھولی میں ڈالے

محسن صاحب آپ کو ایک مرتبہ پہ بہت مبارک باد آخر میں میں ایک اسی سٹیڈیم کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں واقعہ بھی ہے اور ایک لطیفہ بھی ہے یہ میچ تھا پاکستان کا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کا ایک نوٹس ان کی بڑے لمبے ترنگے ان کے بالر تھے میڈیم فاسٹ بارڈر جس طرح آفریدی صاحب ہیں ان سے بھی تھوڑا لمبے تھے شفقت رانا اللہ ان کو زندگی دے وہ سپن بولنگ  کو بہت چیک ملتے ہیں 

 شفقت انا نے 96 سکول کر لیا تو شام کے صاحب بڑھ رہے تھے تو وہ اخری اوور تھا ڈک نوٹس نے گیند کو جھالا شفقت نے بیٹ یہاں رکھا اور پھر چھوڑ دیا اتوار تھی میں بھی تھا پہلے اوور میں جب دوسرے موڈز ائے انہوں نے شفقت نے مڈ وکٹ کیا بدقسمتی بیچارہ وہاں پر انتہائی نا امید ہو کر وہ چل رہے تھے کمیشن کی طرف بڑےآہستہ آاہستہ مجھےآج بھی یاد ہے تو جب پہنچے تو ایک کا بہت بڑا فین تھا وہ آگے بڑھاکہا بیڈ  لک اس نے کہا واقعی  لک بڑا خراب ہے تو اس طرح کے لطیفے کرکٹ کی دنیا میں بڑے مشہور ہیں

میں نے کل جو ہماری ہے کمشن کا آٹھ فروری کے حوالے سے جو ایک سال میں ہم نے ان کا انتہائی پوری ٹیم ورک دن رات جو محنت کی ہے ہماری ٹیم نے یہاں پر اسلام آباد میں پنجاب میں سندھ میں بلوچستان میں کے پی میں اور مل کر جو پاکستان کی جو معاشی استحکام آیا ہے ٹھہرا ہوا ہے وہ ایک ٹیم ورک ہے دن رات ہوئی ہے دن رات تو میں نے ان کو کل یہ واقعہ سنا رہا تھا کہ اسٹریلیا میں برتھ ان کی بڑی تیز وکٹ ہے اپ سب جانتے ہیں تو ڈینسٹلی تبلیغ عروج پر تھا تو وہ گیند کرا رہا تھا تو انتخاب عالم کیپٹن  تھے ساتھ سلیم الطاف تھے جو اخری پیر تھا گین کر رہے تھے بلا کسی پیٹ سے جب یہاں پر تو جب اوور ختم ہوا تو سلیم الطاف ان کے پاس گئے شاباش بہت اچھا اس نے کہا کہ ویلکم بہت اچھا ہے مجھے بتاؤ باہر کا راستہ  کون سا ہے کس طریقے سے ہے یہ جو ہمارے اٹھ مہینے گزرے ہیں اور اس سے پہلے پی ڈی ایم کی حکومت میں مہنگائی اسی رفتار سے اگے بڑھی تھی جس طرح اور دن رات مہنگائی کا ہوش اور مجھے میرے ساتھی کہیں گے شہباز شریف صاحب ویل ڈن کھڑے  رہیں کھڑے رہیں تو مجھے وہ سلیم انصاف اور سکیپر انتخاب عالم کا مکالمہ یاد اگیا انہوں نے کہا کہ سکیپر ویل ڈن اس نے کہا کہ باہر جانے کا راستہ کون سا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ افریدی صاحب اپ بھی اور شاہ صاحب ہمارے جو خاص بالر کہاں بیٹھے ہیں انشاءاللہ اپ بھی ہندوستان کے بیٹسمین کو اسی طرح اپ کا ان کو ٹف ٹائم دیں گے جس طرح ڈیٹس لی ہوئی ہیں انتخاب عالم کو دیا تھا میری مراد یہ نہیں کہ آپ ان کو ماریں میں مراد جو ہے کوئی نہیں ہو رہا ہے اپ میں اپ سب کا بہت شکر گزار ہوں یہاں پر دعوت دینے میں اور مجھے پوری امید ہے انشاءاللہ یہ جو چیمپین ٹرافی ہو رہی ہے 29 سال بعد یہ ایک بہت بڑا ایونٹ ہو رہا ہے اللہ تعالی کا وزیراعلی پنجاب بہترین سیکیورٹی یہاں مہیا کریں یہاں پر بہت اعلی نظام جو چیئرمین ہیں اس نقوی صاحب وہ کریں گے اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا