ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنگ ستمبر 1965ء کیسے شروع ہوئی؟

جنگ ستمبر 1965ء کیسے شروع ہوئی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ستمبر 1965ء کی جنگ صرف پاکستان اور بھارت کے مابین عسکری تصادم نہیں تھی بلکہ اس میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم اور معنی خیز تھا۔ منظرِ عام پر اگرچہ بھارت پاکستانی سرحدوں پر حملہ آور تھا، لیکن پسِ پردہ اسے کئی عالمی قوتوں کی اخلاقی، سفارتی اور خفیہ حمایت حاصل تھی، خاص طور پر امریکہ، جو ایک طرف پاکستان کا اتحادی تھا اور دوسری جانب بھارت کو جنگ کے لیے درپردہ سبز بتی دکھا رہا تھا۔

بھارت کو امریکا کا درپردہ اشارہ:
جنگ سے قبل امریکی رہنماؤں اور بھارتی قیادت کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں امریکہ نے کھل کر کہا کہ وہ بھارت کے خلاف پاکستان کی حمایت میں نہیں آئے گا۔ سابق امریکی گورنر ولیم ایورل ہیری مین نے نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم شاستری سے ملاقات کے دوران واضح کر دیا تھا کہ بھارت کو اگر چین سے ایٹمی خطرہ ہے تو امریکہ "تحفظ" دینے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ سفارتی پیغام بھارتی قیادت کے لیے کھلی چھٹی جیسا تھا، جس کے بعد بھارت نے ستمبر 1965ء میں پاکستان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا۔ تاہم، پاکستان کی فوجی تیاریوں اور بہادری نے بھارتی عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

امریکی رپورٹس اور کشمیر:
"فارن ریلیشنز آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس" کی جلد 25 میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی حکام صدر ایوب خان سے مسلسل رابطے میں تھے، مگر پسِ پردہ بھارت کو پاکستان کی دفاعی حکمت عملی سے باخبر کیا جا رہا تھا۔ اس وقت امریکہ تسلیم کر چکا تھا کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب معاملہ ہے، مگر جب بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کیا تو امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا۔

1965ء میں رن آف کچھ کا تنازع:
مارچ 1965ء میں رن آف کچھ کے مقام پر پاک بھارت سرحدی کشیدگی کا آغاز ہوا۔ بھارتی فوج نے "بائر بیٹ" اور "کنجر کوٹ" کے علاقے پر قبضے کی کوشش کی، حالانکہ یہ علاقے پانی میں ڈوبے رہتے تھے اور مذاکرات میں ان کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ بھارت نے امریکہ کی پشت پناہی محسوس کرتے ہوئے فوجی کارروائی تیز کی، جسے پاکستان نے بروقت جواب دے کر ناکام بنایا۔

پاکستان کا عسکری و معاشی خودانحصاری کی جانب سفر:
صدر ایوب خان اس عالمی کھیل کو بھانپ چکے تھے، اسی لیے انہوں نے پاکستان کو عسکری و اقتصادی خودمختاری کی طرف گامزن کیا۔ امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے ملکی دفاعی صنعت کو فروغ دیا گیا، جس کی بدولت پاکستان نے بھارت کے بڑے حملے کو نہ صرف روکا بلکہ کئی محاذوں پر اسے پسپا ہونے پر مجبور کیا۔

عالمی برادری کا دوہرا معیار:
جنگ ستمبر کے دوران اور بعد میں اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں کشمیر کو تنازع کا بنیادی سبب تسلیم کرتی رہیں لیکن مسئلہ حل کرانے میں سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں۔ امریکہ نے پاکستان پر ہتھیاروں کی پابندی عائد کی، مگر بھارت کو پسِ پردہ سپورٹ جاری رکھی۔

نتیجہ:
جنگ ستمبر 1965ء نے ثابت کیا کہ بھارت تنہا نہیں بلکہ کئی طاقتوں کی آشیر باد سے پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ تاہم، پاکستان کی فوج اور عوام نے غیر معمولی قربانیاں دے کر دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔ مسئلہ کشمیر آج بھی خطے میں تین جنگوں کا سبب بن چکا ہے اور جب تک یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن محض ایک خواب رہے گا۔