سٹی 42: شیری رحمان نے کہا جو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے وہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کیلیے کوئی تو حکمت عملی ہونی چاہیے۔
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کافی وقت سے الفاظ کی جنگ چھیڑی ہوئی ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب سیلاب متاثرین امداد کے منتظر ہیں،سیلاب سے ساڑھے چھ ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے خاص طور پنجاب کے لوگ سسکیاں لے رہے ہیں ،لاکھوں لوگ جو متاثر ہوئے ہیں کیا ان کیلیے سوچنے والا کوئی نہیں پیپلز پارٹی کے پاس 2022 کے سیلاب سے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کا تجربہ ہے ۔
شیری رحما ن نے کہا ہم انٹرنیشنل ایڈ اپنا حق سمجھتے ہیں اس کو بھیک نہیں کہا جا سکتا،جو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے وہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کیلیے کوئی تو حکمت عملی ہونی چاہیے ۔چیئرمین بلاول پنجاب گئے وہاں وزیر اعلی پنجاب کی تعریف کی اور امداد بھی تقسیم کیْ۔ہم نے تو اس حوالے سے کوئی تلخ بات بھی نہیں کی نہ ہی تقسیم کی بات کی جس سے لگے کہ ہم اس معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں ، سندھ میں تو ہاری کارڈ متعارف کروا دیا گیا ہے جو کہ باقی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی ہونا چاہیے ،آپ ابھی بھی آئی ایم ایف سے کلائمٹ فنڈنگ مانگ رہے ہیں میں سمجھتی ہوں یہ پاکستان کا حق ہے ۔
اگر ہم پنجاب کی عوام کیلیے ریلیف مانگ رہے ہیں اگر کسی کو برا لگ رہا ہے تو یہ عجیب بات ہے پنجاب کسی کی جاگیر نہیں ہے ۔ علی حیدر گیلانی کا سب کو پتا ہے کہ پہلے بھی اغوا ہو چکے ہیں اس کے باوجود ان سے پنجاب حکومت نے سکیورٹی واپس لے لی ۔پیپلز پارٹی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے ۔