ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 جنگ بندی کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں, اسرائیل قبضہ کرنا چاہتا ہے، حماس کا بیان

 Hamas statement, Gaza war, ceasefire proposals, city42
کیپشن:   حماس نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی نئی تجویز پر  بات چیت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، اسرائیل  تقریباً ڈیرھ ہفتے بعد غزہ میں حماس کے صفایا کی نئی مہم شروع کرنے کی تیاری کے ساتھ اس دوران حماس کے ساتھ فیصلہ کن مذاکرات کرنے کا خواہاں ہے لیکن مذاکرات کا بنیادی نکتہ حماس کی غزہ سے بے دخلی حماس کو منظور نہیں ہے۔ اس صورتحال کے وکٹم غزہ کے شہری ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  حماس  نے غزہ میں جنگ بندی کے امکان کو ایک بار پھر مسترد کر دیا، اب حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسرائیل تمام غزہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اسرائیل کی کابینہ نے کل غزہ میں حماس کے قبضہ کو ختم کرنے کے لئے ایک نئی جنگ کی منطوری دی تاہم اسرائیل کے دفاعی حکام نے بتایا تھا کہ جنگ کی نئی فیز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات کے آئندہ ہفتے ہو رہے دورہ کے اختتام تک تالا جائے گا، اسرائیل چاہتا ہے کہ اس دورے کے اختتام تک حماس جنگ بندی پر مان جائے۔

اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کا جو نیا پلان پیش کیا گیا اس کی ایک شق یہ ہے کہ حماس جنگ بندی مذاکرات کیلئے بیتھنے سے پہلے  8 کے لگ بھگ یرغمالیوں کو رہا کرے، جنگ بندی مستقل ہو گی اور حماس غیر مسلح ہو گی اور اس کے  لوگ غزہ سے باہر رہیں گے۔
کل اسرائیل کی طرف سے سامنے  لائی جانے والی تجاویز کا آج حماس کی طرف سے جواب آ گیا کہ جنگ بندی کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ 

اسرائیل کے آرمی چیف کی جانب سے اپنی حکومت کو جنگ کے نئے مرحلہ کے متعلق وارننگ دی گئی ہے کہ اس پر عمل درآمد سے حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کی واپسی مخدوش ہو جائے گی۔

 اسرائیل میں یوم آزادی پر صورتحال نے اس وقت خطرناک کروٹ لی جب وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے پبلک خطاب میں سیدھے الفاظ میں کہہ دیا کہ یرغمالیوں کی واپسی ان کے نزدیک غزہ جنگ کا بنیادی مقصد نہیں اور جنگ کا بنیادی مقصد اسرائیل کو حماس کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لئے گزہ میں حماس کا کنترول ختم کرنا ہی ہے۔
کل پیر کے روز اسرائیل کے نئے وار پلان کی جو معمول یتفصی لسامنے لائی گئی اس کا اہم نکتہ شمالی غزہ سے حماس کے صفایا کی ابتدا کرنا اور وہاں  42 روزہ جنگ بندی کے دوران واپس جانے والوں کو جنوبی گزہ کی طرف دھکیلنا ہے۔ 

اسرائیل کے دفاعی حکام اس مرتبہ کئی مہینے طوی لاوفینسِو کی منصوبہ بندی کر رہے ہین جو غالباً ہر کونے کھدرے میں جا کر حماس کے اہلکاروں کی جسمانی تلاش تک جائے گا۔

 اس مرحلہ میں اسرائیلی فوج کے جانی نقصاان کا محض اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ یہ کافی زیادہ ہو گا اور اس کو مینیج کرنے کے لئے آئی ڈی ایف بہت بڑے پیمانے پر ریزروسٹ فوجیوں کی مسلسل شمولیت پر انحصار کرے گی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں غزہ کی 2.1 ملین آبادی کی اکثریت کو بے گھر کرنا شامل ہے۔


حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایک توسیعی حملے کی منظوری کے بعد غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر مزید بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ حماس کے عہدیدار نے الزام لگایا کہ اسرائیل کے منصوبے میں تمام فلسطینی سرزمین پر غیر معینہ مدت تک قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔

باسم نعیم نے انگلینڈ کی نیوز آؤٹ لیٹ بی بی سی کو بتایا کہ  حماس اسرائیل کی جنگ بندی کی نئی تجاویز کے ساتھ  انگیج نہیں ہوگا جب تک کہ اسرائیل اپنی ’جنگ کی بھوک‘ جاری رکھے گا۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ مین لکھا کہ منگل کو باسم نعیم کا بیان اسرائیلی حکام کے پیر کے روز کے بیانات کا مقابلہ کرتا نظر آیا۔

اسرائیل حماس جنگ پر دنیا کی تشویش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی زمینی کارروائیوں میں توسیع اور طویل فوجی موجودگی لامحالہ مزید شہریوں کی ہلاکت اور غزہ کی مزید تباہی کا باعث بنے گی۔

لندن مین ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ "تجدید امن عمل کی ضرورت ہے"۔

واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے تفصیلات میں جانے کے بغیر کہا کہ امریکہ غزہ کے لوگوں کو خوراک کی فراہمی میں مدد کرے گا۔

"لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور ہم انہیں کچھ کھانے کے لیے مدد کرنے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے(صورتحال کو)  بہت، بہت برا بنا رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔ "حماس اسے ناممکن بنا رہی ہے۔"

اسرائیل نے یرغمالیوں کی واپسی کے مذاکرات میں حماس کے کئی ہفتوں کے بے لچک رویہ کے بعد  2 مارچ کو  غزہ آنے والی روزانہ بین الاقوامی امداد اور دیگر سامان کی تمام ترسیل منقطع کر دی تھی اور کہا تھا کہ اس امداد کا ایک حصہ حماس کے کارکنوں کے قبضہ میں جاتا ہے، امداد کی آمد روک کر وہ حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

اسرائیل کے امداد روکنے کا حماس کو کوئی فرق نہیں پڑاالبتہ غزہ میں  42 روزہ جنگ بندی کے  دوران واپس آنے والے بہت سے فلسطینی اپنے بچوں کو کھانا دینے کے لئے سخت پریشانیوں کا شکار ہو گئے جن میں ہر گزرتے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ 

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ کیے جانے سے بڑے پیمانے پر فاقہ کشی کا خطرہ ہے۔

بعض امدادی اداروں نے فوجی مراکز میں نجی کمپنیوں کے ذریعے امداد پہنچانے کی اسرائیل کی تجویز کی بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بنیادی انسانی ہمدردی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی اور وہ تعاون نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت غزہ کی آبادی کے لیے خوراک اور طبی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کر رہا ہے اور امداد کی فی الھال کوئی کمی نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو سرحد پار سے اسرائیل کے اندر گھس کر کئے جانے والے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی، جس میں حماس کے بائیس ہزار کارکنوں کے ساتھ ہزاروں غیر متعلق غزن شہری بھی مارے جا چکے ہین جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

حماس کے دعوے کے  مطابق، اس وقت سے لے کر اب تک غزہ میں 52,567 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اسرائیل ان فگرز کو ڈس انفارمیشن قرار دیتا ہے۔