ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

11 سالہ مغوی بچے کی بیرون ملک سے عدم بازیابی کا کیس، فیصلہ محفوظ

 11 سالہ مغوی بچے کی بیرون ملک سے عدم بازیابی کا کیس، فیصلہ محفوظ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : 11 سالہ مغوی بچے کی بیرون ملک سے عدم بازیابی کا کیس، ہائیکورٹ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ راحیلہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمران عباس ساہی پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے 7 سالہ بیٹے سہون اقبال کی بازیابی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست گزار کے وکیل شیخ ناصر رفیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عمران عباسی نے ایس پی کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پراسس ہے؟۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ریڈ وارنٹ کا پراسس چل رہا ہے۔ جج نے پوچھا کب تک یہ پراسس چلے گا؟۔ وکیل نے بتایاکہ 4 مارچ 2026 کو پراسس شروع کیا، وزارت داخلہ کی منظوری کا انتظار ہے۔ جسٹس سید سید شہباز علی رضوی نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ میں کہا آپ اس پر کیا کہیں گے؟۔ وکیل نے کہا یہ ایف آئی آر 2023 میں درج ہوئی۔ پہلے بھی ریڈ وارنٹ جاری ہوئے، اس وقت بھی عدالت کو آگاہ کیا تھا۔

 اس میں پہلے 17دسمبر 2025میں انٹرپول رولز بارے رپورٹ دی تھی۔ عدالت نے پوچھا، اب آپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا آپ انٹرپول رولز کو چیلنج کررہے ہیں۔؟ وکیل نے کہا ہماری استدعا ہے کہ بچے کو بیرون ملک سے واپس لیا جائے۔ جسٹس سید شہباز علی رضوی نے کہا انویسٹی گیشن میں ہم کیسے مداخلت کرسکتے ہیں؟۔ وکیل نے کہا ان کا پاسپورٹ 6 ستمبر 2023 سے بلاک ہے۔ پاسپورٹ کی بلاکنگ ختم ہوگی تو بچہ ملک واپس آسکے گا۔ یہ ان کا نمبر دے دیں، بازیابی کیلئے مزید کوششیں کرسکتے ہیں۔ بچے کی نانی صغراں بی بی نے رشتہ دار کی ولدیت میں جعلی ب فارم بنایا۔ بچی کی نانی نے اپنے رشتہ دار کے ساتھ نواسے کو دبئی بھجوادیا۔۔ استدعا ہے کہ عدالت بچے کو دبئی سے بازیاب کروا کر پاکستان لانے کا حکم دے۔

Ansa Awais

Content Writer