ویب ڈیسک:اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے روزانہ 8 گلاس پانی پینا چاہیے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ مقدار ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتی اور عمر، جسمانی ضروریات اور موسم کے مطابق بدل سکتی ہے۔
انسانی جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور جسم کے بیشتر افعال کے لیے پانی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پانی جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے، خلیات تک غذائی اجزا پہنچاتا ہے، جوڑوں کو رواں رکھتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جسم کو مناسب مقدار میں پانی نہ ملے تو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں سانس کی بدبو، سر چکرانا، تھکن اور ذہنی الجھن جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
عمر کے مطابق پانی کی ضرورت
ماہرین کی تحقیق کے مطابق مختلف عمروں میں پانی کی ضرورت بھی مختلف ہوتی ہے۔
4 سے 8 سال کے بچوں کے لیے روزانہ تقریباً 7 کپ پانی تجویز کیا جاتا ہے۔
9 سے 13 سال کے لڑکوں کے لیے 10 کپ جبکہ لڑکیوں کے لیے 9 کپ پانی مناسب سمجھا جاتا ہے۔
14 سے 18 سال کے لڑکوں کو روزانہ 14 کپ جبکہ لڑکیوں کو 10 کپ پانی پینا چاہیے۔
بالغ افراد میں خواتین کے لیے روزانہ تقریباً 2.7 لیٹر (11 کپ) جبکہ مردوں کے لیے 3.7 لیٹر (15 کپ) سیال کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ تمام مقدار صرف پانی سے ہی حاصل کی جائے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ درکار سیال کا تقریباً 20 فیصد حصہ پھلوں اور سبزیوں سے بھی حاصل ہو جاتا ہے، جبکہ چائے، کافی اور دیگر مشروبات بھی جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
پانی کی ضرورت کب بڑھ جاتی ہے؟
گرمی کے موسم میں یا زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں جسم کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح بخار، نزلہ زکام یا دیگر بیماریوں کے دوران بھی زیادہ سیال کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔
تاہم بعض بیماریوں جیسے دل یا گردوں کے مخصوص امراض میں پانی کی مقدار محدود کرنے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے، اس لیے ایسی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا ضروری ہے۔
پانی کی کمی کی پہچان کیسے کریں؟
جسم میں پانی کی کمی کا اندازہ پیشاب کے رنگ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر پیشاب کا رنگ ہلکا یا تقریباً شفاف ہو تو یہ مناسب پانی پینے کی علامت ہے، جبکہ گہرا رنگ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ معلومات طبی تحقیقات اور ماہرین کی آراء پر مبنی ہیں، صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں اپنے معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔