ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع اہم مذہبی مقامات کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہشام ابراہیم نے جمعرات کے روز اسرائیلی فوج کے پلیٹ فارم " المنسق" پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے میں کیے گئے جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جمعہ کے دن مقبوضہ بیت المقدس میں موجود تمام بڑے مذہبی مقامات، جن میں مسجد اقصیٰ، مغربی دیوار اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر شامل ہیں، عبادت گزاروں اور سیاحوں کے لیے بند رہیں گے۔ اس دوران کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان مقامات میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل عمان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ قریب ہے کیونکہ تہران اس بات پر آمادہ ہو گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار افزودہ یورینیم ذخیرہ نہیں کرے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں اب تک 12 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ ایران میں اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کے باعث کم از کم 1230 افراد کے جاں بحق ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں عام افراد کے داخلے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ صرف مقامی رہائشیوں اور دکانداروں کو وہاں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ عکرمہ صبری نے مسجد کی مسلسل بندش پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام ہر موقع کو استعمال کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو بند کر دیتے ہیں اور یہ اقدام کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ پر پابندیاں ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی عائد کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ماضی میں یہاں لاکھوں افراد جمع ہو کر نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کے بیک وقت جمع ہونے کی گنجائش موجود ہے۔