لیسکو میں کروڑوں کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات فائلوں کی نذر


(شاہد ندیم سپرا) لیسکو میں  پاور ٹرانسفارمر زکی خریداری میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں پر پیپکو کی تحقیقات فائلوں کی نذر ہوگئی۔ افسران کی ملی بھگت سے کمپنی کی کروڑوں روپے کی پرفارمنس گارنٹی زائدالمعیاد ہو گئی،27 میں سے 18 پاور ٹرانسفارمر جل گئے، ایف آئی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹرکی سربراہی میں دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔

سٹی 42 کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے گرڈ سٹیشنز کے پاور ٹرانسفارمرز کی خریداری کی تھی جس کے بعد انہیں گرڈ سٹیشنز پر نصب کر دیا گیا، پاور ٹرانسفارمر زنصب ہونے کیساتھ ہی جلنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے کمپنی کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ صارفین بھی گھنٹوں بجلی سے محروم رہے، پیپکو نے دو ماہ قبل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ 60کروڑ روپے کے خلاف ضابطہ مینوفیکچرر کو فائدہ پہنچانے کی انکوائری کی جا سکے تاہم پپیکو کی انکوائری کمیٹی اپنے پیٹی بھائیوں کیخلاف انکوائری نہ کر سکی جس کے بعداب ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، ایف آئی اے نے تحقیقات کے لئے لیسکو چیف کو مراسلہ بھی ارسال کیا ہے۔

واضح رہےکہ کمپنی نے مجموعی طور پر 27 پاور ٹرانسفارمر زخریدے جن میں سے 18دوران گارنٹی جل گئے، مذکورہ ٹرانسفارمرز سابق لیسکو چیف قیصر زمان اور موجودہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل خالد سعید اختر کی تعیناتی کے دوران خریدے گئے تھے۔