ملک اشرف : اراضی پر مبینہ پولیس مداخلت سے متعلق کیس کی سماعت،ہائیکورٹ نے سی پی اوگوجرانوالہ کی رپورٹ پردرخواست نمٹا دی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ اراضی کی ملکیت کا تعین دیوانی عدالت کا اختیار ہے جبکہ ریونیو رپورٹ سے متعلق اعتراض متعلقہ ریونیو فورم پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نےسائل شرافت علی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کامؤقف تھاکہ وہ لیزہولڈر ہےاورحکم امتناعی موجود ہونے کے باوجود پولیس نے اراضی کے معاملے میں مداخلت کی، جس پر اس نےہائیکورٹ سے رجوع کیا۔دوران سماعت سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث گل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر کےہمراہ پیش ہوئے اور انکوائری رپورٹ جمع کرائی۔چیف جسٹس نےسی پی او سے استفسار کیا کہ انکوائری کا کیا نتیجہ نکلا؟ اس پر سی پی او نےبتایا کہ ریونیوریکارڈکےمطابق رپورٹ درخواستگزارکےحق میں آئی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئےکہ پولیس نےاس معاملےکوصرف اپنے دائرہ اختیار کے مطابق دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ایک پٹواری دس دس رپورٹیں لوگوں کی منشا کےمطابق لکھتا ہے۔"مدعی مقدمہ کے وکیل نے ریونیو رپورٹ کو غلط قرار دیا تو چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر رپورٹ پر اعتراض ہےتواسے متعلقہ ریونیو اتھارٹی کے سامنے چیلنج کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیئےکہ فریقین کےسول دعوےپہلےہی متعلقہ دیوانی عدالت میں زیرالتوا ہیں۔بعد ازاں درخواستگزارکےوکیل نےپولیس کی انکوائری رپورٹ پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید دلائل دینے سے گریز کیا، جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔