ویب ڈیسک: گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کی جانب سے اعلان کردہ ہڑتال کے باعث سندھ بھر میں تمام نجی اسکول اور کالجز جمعہ 9 جنوری کو بند رہیں گے۔
الائنس کے رہنماؤں نے یہ اعلان کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ہڑتال کا مقصد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جاری تصدیقی مہم کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
الائنس رہنماؤں نے بتایا کہ 8 دسمبر 2025 کو سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے فیصلے کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ریجنل ڈائریکٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی فری شپ فہرستوں کی تصدیق کا اختیار دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ اینٹی کرپشن کی ٹیموں نے اس دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے اسکولوں کے اندر براہِ راست معائنہ شروع کر دیا۔
الائنس کے مطابق اس طرح کے دورے سندھ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ 2013 کی خلاف ورزی ہیں۔ قانون کے تحت نجی اسکولوں اور کالجز کی نگرانی اور ریگولیشن کا واحد مجاز ادارہ ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز ہے۔
رہنماؤں نے اعلان کیا کہ نجی تعلیمی ادارے 8 جنوری کو یومِ سیاہ منائیں گے اور موجودہ تصدیقی عمل کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت میں نئی درخواست دائر کی جائے گی۔
انہوں نے اسکولوں کے احاطے میں مسلح اہلکاروں کی موجودگی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ الائنس کے مطابق اس صورتحال سے خواتین اساتذہ اور کم عمر طلبہ میں خوف اور ذہنی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ والدین سے بھی غیر ضروری سوالات کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ پہلے ہی مطلوبہ دستاویزات اور تحریری یقین دہانیاں جمع کرا چکے ہیں۔
الائنس کا مؤقف تھا کہ چند انفرادی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر پورے تعلیمی شعبے کو ذمہ دار ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات طویل عرصے سے قائم تعلیمی اور فلاحی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
الائنس نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیرِ تعلیم سردار علی شاہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تصدیقی عمل صرف ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے ذریعے ہی مکمل کرایا جائے اور اسکولوں میں براہِ راست چھاپوں سے گریز کیا جائے۔
آئندہ لائحہ عمل کے تحت الائنس نے اعلان کیا کہ 6 سے 8 جنوری کے دوران سندھ کے تمام اضلاع میں والدین اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔