ویب ڈیسک: پشاور میں شدید سردی، گھنی دھند اور بوندا باندی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ سرد موسم کے باوجود پشاور یونیورسٹی کے زیر انتظام سکول کھولنے پر والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بوندا باندی کے ساتھ گھنی دھند چھائی رہی، جس کے باعث کئی مقامات پر حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں کم سے کم درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور دھند کے دوران بالخصوص پرائمری سکول کے بچوں کا اسکول جانا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، جس سے بچوں کے بیمار ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
متاثرہ والدین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر سکولوں کے اوقات کار یا ممکنہ تعطیلات کے حوالے سے فوری اور مناسب فیصلہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ پنجاب بھر میں موسمِ سرما کی چھٹیوں کے دوران تعلیمی ادارے کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہوئے تمام سی ای اوز ایجوکیشن کو واضح ہدایات دے دی ہیں۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق چھٹیوں کے دوران اسکول کھولنے یا احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کی رپورٹ سی ای اوز روزانہ کی بنیاد پر محکمہ کو ارسال کریں گے۔اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ موسمِ سرما کی چھٹیوں کے دوران تعلیمی ادارے کھولنے پر متعلقہ اتھارٹیز سخت ایکشن لیں گی تاکہ احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔