ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئی سی سی سے تعاون کرنے والے امریکہ نہیں جا سکیں گے

USA to sanction ICC and related individuals, city42
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ 6 فروری 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں واشنگٹن ہلٹن میں قومی دعائیہ اجتماع اور ناشتے کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (فوٹو: ٹنگ شین/اے ایف پی)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کے ساتھ امریکی شہریوں یا امریکہ کے اتحادیوں کے متعلق کسی کارروائی میں تعاون کرنے والے اور ان کے اہلِ خانہ اب امریکہ نہیں جا سکیں گے۔ غیر سرکاری غیر رسمی عدالت آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرنے والوں پر پابندیوں کے نفاذ کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک ایگزیکٹو آرڈر سائن کرنے والے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکارنے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے جس میں اسرائیل سمیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق افراد پر پابندیوں کی منظوری دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ حکم ان افراد اور خاندانوں پر مالی اور ویزا سے متعلق پابندیاں عائد کرے گا جو امریکی شہریوں یا اتحادیوں کی تحقیقات میں آئی سی سی کی مدد کرتے ہیں۔

آئی سی سی نے نومبر میں حماس کی سات اکتوبر دہشتگردی سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ میں مبینہ جنگی جرائم پر اسرائیل کے  وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل نےآئی سی سی کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

پچھلے مہینے وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے دن، صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں پہلے کے حکم کو بحال کیا گیا تھا جو آئی سی سی اور اس کے اہلکاروں کے خلاف مستقبل کی پابندیوں کے لیے قانونی بنیاد کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے بھی گزشتہ ماہ آئی سی سی پر پابندیاں عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، حالانکہ اس قانون کو سینیٹ میں منظور ہونا باقی ہے۔

غزہ جنگ کے ضمن میں آئی سی سی نے  نومبر 2024 کے تیسرے ہفتے اپنی ایک نیم عدالتی کارروائی کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یواو گیلنٹ کو جنگی جرائم ما مجرم قرار دینے کے ساتھ حماس کے محمد ضعیف کو سات اکتوبر کو اسرائیل کے اندر شہری آبادیوں پر دہشتگردانہ حملوں کے منصوبے کا خالق گردانتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔ اس وقت تک اسرائیل کی جانب سے یہ بتایا جا چکا تھا کہ ضعیف ایک حملے میں مارا جا چکا ہے۔

 آئی سی سی نے حماس کے دو دوسرے لیدروں اسمعیل ہنیہ اور یحیٰ سنوار کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا عمل اس لئے روک لیا تھا کہ ان دونوں کے مارے جانے کی اطلاعات مل چکی تھیں۔ آئی سی سی نے عملاً حماس کے کسی زندہ رہنما کو سات اکتوبر حملوں میں ہونے والے سنگین جرائم کا مجرم نہیں ٹھہرایا۔