ویب ڈیسک:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں،پاکستان غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، ہم معتدل و پرامن شام اور وہاں سے بے یقینی کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی اولین ترجیح ، پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، دونوں ممالک نے دہشتگردی کیخلاف زیروٹالرنس پر اتفاق کیاہے، سگار کی رپورٹ ہمارے موقف کی تجدید ہے،مطالبہ کرتے ہیں کہ افغان حکومت افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔
امریکی حکومت نے نئے ایگزیکٹو حکمنامے کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کی بیدخلی پر تیزی سے کام شروع کیا ہے، گوانتانا موبے کے دوبارہ کھلنے کا معاملہ ہماری امریکہ کے ساتھ بات چیت کا حصہ نہیں ہے، جرمنی میں ہمارے سفارت خانے کا تحفظ جرمن وزارت خارجہ کی ذمہ داری تھی،ماضی میں سفارت خانے پر حملے پر جرمن حکومت سے رابطہ میں ہیں،جرمنی میں سفارت خانے پر حملہ اور قومی پرچم کی بیحرمتی ایک حساس معاملہ ہےاس سے پاکستانیوں کے جذبات متاثر ہوئے ہیں۔
شفقت علی خان نے کہا کہ ترکیہ صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ہم ایڈوانس سٹیج پر ہیں،ہم جلد ہی اس حوالے سے تفصیلی پردہ رونمائی کریں گے،انہوں نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان ،کشمیر پر پاکستانی حکومت کا موقف کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہے،صوبائی حکومتوں کی جانب سے جرگہ کا معاملہ دفتر خارجہ کی مدد سے ہوگا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سابق امریکی صدر بائیڈن کو رحم کی اپیل مسترد ہو گئی،اپیل مسترد ہونے کے بعد امریکی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے کیس کو بند کر دیا ہے،اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی مستقبل میں دوبارہ اپنے وکلاء کے ذریعہ کسی بھی وقت نئی رحم کی اپیل کر سکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ کشن گنگا اور ریتلے پر غیر جانبدارنہ ماہرین کا معاملہ اگست 2025 میں آگے بڑھے گا۔