میجرشبیرشہید نشان حیدر کا49واں یوم شہادت،پاک فوج کا خراج عقیدت

میجرشبیرشہید نشان حیدر کا49واں یوم شہادت،پاک فوج کا خراج عقیدت

(درنایاب)میجرمحمد شبیر شہید نشان حیدر کے49ویں یوم شہادت کےموقع پرپروقارتقریب کا انعقاد  کیاگیا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سےشہید کی قبرپر گلدستہ چڑھایاگیا ۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے بہادر سپوت، ملک وقوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے والے دھرتی ماں کے بیٹےمیجرمحمد شبیر شہید نشان حیدر کے49ویں یوم شہادت پر پروقارتقریب کا انعقاد  کیاگیا،‏   آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے میانی صاحب قبرستان میں میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کی قبر پر  گلدستہ رکھاگیا۔میجر جنرل رضا ایزد نے بھی حاضری دی ۔ انہوں نے بہادرسپوت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے شہید کی قبر پر پھول رکھے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل رضا ایزد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی ۔ شبیر شریف نشان حیدر اور ستارہ جرات حاصل کرنے والے پاک فوج کے منفرد افسر ہیں۔

میجر شبیرشریف شہید 28 اپریل 1947 کو ضلع گجرات کےقصبہ کنجاہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1964 میں 21 سال کی عمر میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، 1965 کی جنگ میں بحیثیت سیکنڈ لیفٹیننٹ شریک ہوئے اوربہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے چار بھارتی سپاہیوں کو جنگی قیدی بنایا اور دشمن کی دو توپیں بھی تباہ کیں ۔ جنگ میں کمال بہاردی کا اعتراف کرتے ہوئے شبیر شریف کوستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔

1971 کی پاک بھارت جنگ میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر سکس ایف ایف رجمنٹ نے دشمن کی فوج کو تہس نہس کردیا۔جنگ کے دوران بھارتی میجر نارائن سنگھ نے میجر شبیر شریف کی پوزیشن کے قریب آ کر انہیں للکارا تو پاک فوج کا یہ بہادر افسر اپنی پوزیشن سے نکل کر دشمن کے سامنے آ گیا۔

نارائن سنگھ نے ہینڈ گرنیڈ میجر شبیر شریف پر پھینکا جس سے ان کی وردی کو آگ لگ گئی لیکن شبیر شریف نے بھارتی میجر کو نیچے گرایا اور اسی کی اسٹین گن سے جہنم واصل کر دیا۔ محاذ جنگ پر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے میجر شبیر شریف 6 دسمبر 1971 کو جام شہادت نوش کر گئے۔