لانگ مارچ، استعفے یا مذاکرات، پی ڈی ایم فیصلہ 8 دسمبر کو کرے گی

لانگ مارچ، استعفے یا مذاکرات، پی ڈی ایم فیصلہ 8 دسمبر کو کرے گی

مال روڈ (علی اکبر) حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کا محاذ گرم، لاہور کے جلسہ کے بعد کن آپشن پر عمل کیا جائے مذاکرات، لانگ مارچ یا استعفے؟ مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کیلئے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 8 دسمبر کو اسلام آباد طلب کرلیا گیا۔

پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان نے 8 دسمبر کے اجلاس کیلئے پارٹی رہنماؤں سے تجاویز مانگ لیں، لاہور کے جلسہ کے بعد کن آپشن پر عمل کیا جائے مذاکرات؟ لانگ مارچ یا استعفے؟ پی ڈی ایم کے بعض سربراہان قومی اداروں کو قومی مفاہمت بارے مثبت اشارہ دینے پر واضع تقسیم نظر آتی ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل درآمد پر راضی مگر اداروں کو مثبت اشارہ دینے کی حامی ہے، پیپلز پارٹی ان ہاؤس تبدیلی کی خواہاں جبکہ (ن) لیگ اس کی مخالف میں کھڑی ہے، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف قومی اداروں کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں ہیں۔

 سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز موجودہ صورتحال میں مفاہمت کے مخالف نظر آتے ہیں، جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور نوازشریف ایک کشتی کے سوار ہیں، نواز شریف مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ اوراستعفوں کے حامی جکہ پیپلز پارٹی استعفوں کی مخالفت میں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت متفقہ پالیسی بنانے میں تاحال ناکام دیکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کے کچھ حلقے ابھی بھی شہباز شریف کے موقف کے حامی مسلم لیگ (ن) بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر مینگل، پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے محمود خان اچکزئی سمیت سینیٹر ساجد میر، اے این کے امیر حیدر ہوتی استعفوں کے حامی ہیں۔استعفے لانگ مارچ یا پھر مذاکرات فیصلہ 8 دسمبر کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں ہو گا۔