ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اتراکھنڈ  کے سیلاب میں کیرالہ کے  28 سیاح بھی لاپتہ ہو گئے

At Least 4 Dead, 100 Still Missing, Flash Flood, Flood Caused by Cloudburst, flash flood Washes Out Tourist Town
کیپشن: دھرالی مین سیلاب نے بہت سی عمارتوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ یہ سکرین شوٹ دھرالی پر پانی کی یلغار کے منظر کی ایک ویڈیو کلپ سے لیا گیا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انڈیا کی شمالی ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ  کے پہاڑوں میں شدید بارش کے ساتھ آنے والے سیلاب میں کیرالہ کے  28 سیاح بھی لاپتہ ہو گئے۔ یہ سیاح ایک گروپ کی صورت میں پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کی سیر کے لئے آئے ہوئے تھے اور سیلاب کے وقت دھرالی گاؤں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس گاؤں کے کئی ہوٹیل اور بہت سے گھر، دوکانیں اچانک آنے والے سیلاب میں بہہ گئے۔
دھرالی میں منگل کی شام آنے والے سیلاب کے  واقعے کا احاطہ کرنے والے تصدیق شدہ خبروں کے ذرائع سے ایک جامع خلاصہ یہ ہے:

 دھرالی میں کل کیا ہوا
5 اگست، 2025 کو، دریائے کھیر گنگا کے اوپری کیچمنٹ میں اچانک بہت تیز بارش (بادل پھٹنے ) سے اترکاشی ضلع، اتراکھنڈ کے دھرالی گاؤں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوئی۔ انڈیا کی کئی نیوز آؤٹ لیٹس اور انترنیشنل ذرائع ابلاغ مین بدھ کی شام تک شائع ہو چکی رپورٹس کے مطابق  دھرالی کے سیلاب میں کم از کم چار افراد کی موت ہو چکی ہے، اور تقریباً 100 لوگ لاپتہ ہیں—کچھ اندازوں کے مطابق 130 تک لاپتہ افراد شامل ہیں، جن میں قریبی کیمپ سے 11 ہندوستانی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
سیلابی پانی نے دھرالی کا نصف حصہ تباہ کر دیا، متعدد ہوٹل، دکانیں اور مکانات بہہ گئے۔  

 لاپتہ افراد میں 28‑رکنی کیرالہ کا سیاحتی گروپ بھی شامل
لاپتہ ہونے والوں میں 28 افراد کا ایک سیاح گروپ بھی شامل ہے، جو تمام کیرالہ کے رہنے والے ہیں۔ 20  افراد کیرالہ کے ہیں لیکن کام کیلئے مہاراشٹر میں آباد ہیں، جبکہ آٹھ کیرالہ کے اضلاع سے ہی اس گروپ میں شامل ہو کر سیر کے لئے اتراکھنڈ آئے ہیں۔
وہ 5 اگست کو صبح 8:30 بجے کے قریب اترکاشی سے گنگوتری جا رہے تھے، جب راستے میں لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی۔ یہ ان کا  اپنے خاندانواں سے آخری رابطہ تھا۔

تمام سیاحوں کے فون بند!

ان 28 سیاحوں کے فون ناقابل رسائی ہیں - ممکنہ طور پر بیٹری کی کمی اور دور دراز علاقوں میں نیٹ ورک کوریج کی کمی کی وجہ سے بھی یہ ہو سکتا ہے اور کسی زیادہ سنگین حادثہ کے سبب بھی۔

ان سیاحوں کے لئے 10 دن کے ٹور  کا انتظام کرنے والی ہری دوار کی ٹریول ایجنسی نے بھی اپ ڈیٹ فراہم نہیں کیا ہے۔

اس گروپ کے ساتھ کیا ہوا ہو گا

ممبئی میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گروپ لینڈ سلائیڈنگ کی جگہ سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر پھنس سکتا ہے، حالانکہ اس مقام کی تفصیلات غیر یقینی ہیں۔


ریسکیو آپریشنز اور چیلنجز
بچاؤ کی کوششوں میں ہندوستانی فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، ڈرون، ٹریکر کتے، بھاری مشینری، اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن شامل ہیں— سبھی "جنگی بنیادوں" پر لاپتہ ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ عمارتوں کا مبلہ ہٹانے کی کوششیں ابھی ابتدائی درجہ میں ہیں کیونکہ مشینری دستیاب نہیں، بہت سے علاقہ کو پہاڑوں سے پانی کے ساتھ آئی مٹی اور گارے نے ڈھک لیا ہے، اس گارے میں تلاش ایک الگ نوعیت کا  دشوار امر ہے۔

ریسکیو کارکنوں کی کامیابیاں اور مسائل

کل کنگل کی شام سے ہی شروع ہو چکے ریسکیو آپریشن میں اب تک، تقریباً 100-130 لوگوں کو بچایا جا چکا ہے، جن میں گاؤں کے زندہ بچ جانے والے اور آس پاس کے علاقوں میں پھنسے دیگر مقامی لوگ اور کچھ سیاح شامل ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ، تباہ شدہ سڑکیں، جاری موسلا دھار بارش، اور علاقوں میں عدم استحکام امدادی سرگرمیوں میں شدید رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ جہاں سیل فون نیٹ ورک بند ہیں وہاں بات چیت کے لیے سیٹلائٹ فون استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Caption  دھرالی میں امدادی کارکنوں کے پاس ضروری سامان کی کمی ہے لیکن وہ کوشش بہرحال کر رہے ہیں۔

 وسیع تر سیاق و سباق اور خطرات
ماہرین اس طرح کے فلیش سیلابوں کے لئے  موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند سیاحت، اور ہمالیہ کے نازک ڈھلوانوں پر تیزی سے بڑھ رہی تعمیرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کی آفات کے لیے اتراکھنڈ کے بہت سے علاقوں میں  سیلابوں  سے  نقصانات کے خطرے کو بڑھانے والے اہم عوامل ہیں۔
اس خطے میں بادلوں کے پھٹنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے متاثر ہونے کی  طویل تاریخ ہے، جس میں 2013 میں تباہ کن کیدارناتھ سانحہ جیسے بڑے سیلاب بھی شامل ہیں۔


دھرالی ڈیزاسٹر کا  خلاصہ 
ضمنی تفصیلات
تاریخ:  5 اگست 2025
مقام:  دھرالی گاؤں، اترکاشی ضلع، اتراکھنڈ
ڈیزاسٹر کی بنیادی نوعیت: کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈ
ہلاکتیں:  کم از کم 4
لاپتہ انسان:  (کل) ~100–130 افراد؛ 11-12 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
لاپتہ گروپ:  28 کیرالین سیاح (20 کیرالہ-مہاراشٹر، 8 کیرالہ سے آئے)
آخری رابطہ: 8:30AM،  اترکاشی سے گنگوتری جاتے ہوئے راستے میں

✅ ریسکیو حقائق:  100+ بچائے گئے؛ مشکل علاقوں کے درمیان آپریشن جاری ہے۔