ویب ڈیسک: ماہر امراض جگر و معدہ پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں.
پروگرام مارننگ وِد فضا میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، اس وقت ملک میں اس کی شرح 5.5 فیصد سے بڑھ کر 8.5 فیصد ہو چکی ہے، اور صرف پنجاب میں اس مرض کے ایک کروڑ سے زائد مریض موجود ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج ممکن ہے، اور حکومت نے 2017 کے بعد اس مرض کے لیے مؤثر، سستی اور بغیر سائیڈ ایفیکٹس والی دوا سرکاری ہسپتالوں میں مفت فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔ تین سے چھ ماہ کا کورس لینے والے 95 فیصد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، اور ہر سال تقریباً 4 لاکھ 75 ہزار افراد کا علاج کیا جاتا ہے، نجی ہسپتالوں کے مریض اس کے علاوہ ہیں۔ اگرچہ پی سی آر ٹیسٹ پہلے 90 فیصد مثبت آتے تھے۔
اب یہ شرح کم ہو کر 55 فیصد ہو گئی ہے، لیکن بدقسمتی سے جب مریضوں کی تشخیص ہوتی ہے تو جگر اکثر سکڑنے کے آخری مراحل میں ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے تجویز دی کہ ہر فرد کو سال میں ایک بار ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے، خاص طور پر اگر خاندان میں کسی کو یہ مرض رہا ہو، کوئی سرجری یا دانت نکالنے کا عمل کروایا ہو، یا خون کی منتقلی ہوئی ہو۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں فیٹی لیور اور موٹاپے کی شرح دنیا بھر سے زیادہ ہے، جس کی وجہ ورزش کی کمی، زیادہ کھانا، گاڑیوں کا بے جا استعمال اور غیر صحت بخش طرز زندگی ہے۔ خواتین کی کمر اگر 31 انچ اور مردوں کی 34 انچ سے زیادہ ہو تو یہ جگر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
اس وقت پاکستان میں 67 فیصد خواتین اور 47 فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں، جو جگر، دل، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ تیل کے استعمال میں احتیاط برتیں، متوازن غذا اپنائیں، روزانہ چہل قدمی کو معمول بنائیں، اور سست طرز زندگی کو صحت مند انداز میں تبدیل کریں۔