وقاص احمد:چلڈرن ہسپتال لاہور کی پارکنگ سے ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر احمد لطیف طویل عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ان کے ساتھی ڈاکٹروں کو اس کا علم تھا۔ متوفی کو ان کے ساتھی نے ریسٹ لینے کی ہدایت بھی دی تھی۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر احمد لطیف ذہنی سکون کی ادویات بھی لے رہے تھے اور ان کی گاڑی سے بھی متعلقہ ادویات برآمد ہوئیں۔
تمام برآمد شدہ ادویات اور پوسٹ مارٹم کے نمونے فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں، اور موت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ کے بعد واضح ہو گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
واضح رہے کہ ابتدائی رپورٹ میں تشددکا کوئی نشان نہیں ملا تھا،حکام کے مطابق ڈاکٹر کی لاش 3 سے 4 روز پرانی تھی۔