ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گندم کے بحران اورآٹے کی قیمتوں میں  مزیداضافے کاخدشہ  

گندم کے بحران اورآٹے کی قیمتوں میں  مزیداضافے کاخدشہ  
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)چیئرمین پاکستان  کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے گندم کے بحران اور اس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں  مزیداضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے خالدحسین باٹھ نے کہاکہ گندم اس وقت سندھ میں4ہزار روپے فی من مل رہی ہے جبکہ پنجاب میں 3900روپے ہے، میں اس وقت کوئٹہ میں ہوں اور یہاں گندم 4500 روپے فی من ہے جبکہ گندم کی نئی فصل آنے میں ابھی 7 ماہ باقی ہیں۔
چیئرمین پاکستان اتحاد نے  مزیدبتایا کہ گندم ابھی سے مہنگی ہونا شروع ہوگئی ہے آگے مزید مہنگی ہوگی کیونکہ سیلاب کی وجہ سے کاشت کاروں کا مزید نقصان ہوگیا ہے۔
حکومت کی جانب سے گندم کے ذخیرے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ وفاقی وزیر کو چیلنج کرتا ہوں کہ مجھ سے کسی بھی مقام پر مذاکرہ کرلیں، میں جواب دینے کیلئے تیار ہوں، یہ تاثر کسی بھی طرح درست نہیں کہ گندم مہنگی نہیں ہورہی کیونکہ حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس دوبارہ مقرر نہیں کی،اس کے علاوہ حکومت نے دوسرے صوبوں کو گندم کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، یہ اقدام دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی زیادتی کے مترادف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران کراچی میں 100 کلو گرام گندم کی قیمت میں 2 ہزار روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کراچی میں گندم کی بوری 7200 سے بڑھ کے 9300 روپے  کی ہو گئی ہے جبکہ کراچی میں 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 5 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
پشاور میں 100 کلوگرام گندم  کی بوری کی نئی قیمت 9800 روپے اور کوئٹہ میں 9600 ہوگئی ہے۔لاہور،راولپنڈی اور اسلام آباد میں 900 تا 1000روپے  کااضافہ ہواہے۔