سٹی42: پڑوسی ملک کی ریاست بہار میں الیکشن سے صرف ایک دن پہلے اپوزیشن گرینڈ الائنس کے لیڈر راہول گاندھی نے ریاستی انتخابات میں دھاندلے کا ایک بڑا سکینڈل اَن ریویل کر ڈالا اور بہار میں بھی ہریانہ جیسا دھاندلا ہونے کا الزام لگا دیا۔ راہل گاندھی نے The H-Files دی ایچ فائلز کے نام سے تہلکہ خیز نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے ہریانہ ریاستی اسمبلی مین دھامدلے کے ثبوتوں کے ڈھیر میڈیا کے سامنے رکھ دیئے اور سب سے اہم بات یہ بتائی کہ کل 6 نومبر کو بہار اسمبلی کے الیکشن میں بھی ہریانہ دھاندلا کی کہانی دہرانے کی تیاری مکمل ہے۔
دی ایچ فائلز؛ بھارت میں سال کا سب سے بڑاھماکہ
پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے انکشاف کیا کہ ہریانہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی جیت عوام کے ووٹ سے نہیں، بلکہ ’ووٹ چوری‘ سے ہوئی تھی۔ انھوں نے کچھ اہم ثبوت میڈیا کے سامنے رکھے، جس نے الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ کانگریس نے راہل گاندھی کی پریس کانفرنس میں کیے گئے دعووں اور ثبوتوں پر مشتمل ایک پریزنٹیشن بھی میڈیا کو جاری کیا جس میں ووٹ چوری کی طرف واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ یہاں پیش ہیں اس پریزنٹیشن میں موجود 21 تصویریں، جو ہریانہ میں ہوئی مبینہ ’ووٹ چوری‘ کی ایک واضح تصویر پیش کر رہی ہیں۔
مہا گٹھ بندھن ( گرینڈالائنس) اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے آج ایک ڈرامائی نیوزکانفرنس کی اور اس میں ہریانہ کے ریاستی الیکشن میں ووٹنگ فراڈ کا ایک سینسیشنل سکینڈل اَن ریویل کیا۔ انہوں نے ووٹرز لسٹ میں ایک خاتون کے بائیس ناموں کے ساتھ جعلی ووٹ موجود ہونے کا انکشاف کیا، زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خاتون بھارتی شہری نہیں بلکہ ایک برازیلین ماڈل ہے۔ راہول گاندھی نے اس خاتون ماڈل کے 22 ناموں سے بنے ووٹوں کی مکمل تفصیل میڈیا کے سامنے رکھی اور ہریانہ کے 2024 کے ریاستی اسمبلی الیکشن میں ہوئے دھاندلا کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھیں۔ راہول گاندھی نے بتایا کہ 25 لاکھ جعلی ووٹ ڈلوائے گئے تھے جنہوں نے ریاستی اسمبلی کے الیکشن کا رخ بدل دیا تھا۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ ہریانہ اسمبلی کے الیکشن سے پہلے مبصرین، حتیٰ کہ لاہور مین بیتھے تجزیہ کاروں کو صاف نظر آ رہا تھا کہ ہریانہ میں ہوا بدل چکی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی الیکشن میں شکست یقینی ہے؛ الیکشن کے دوران بھی یہی نظر آیا لیکن جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو نتیجہ مبصرین کی قیاس آڑائی اور پبلک اوپینئین پولز سے سامنے آنے والے ممکنہ نتیجے سے بہت مختلف، بھاجپا کی جیت دکھا رہا تھا۔ الیکشن کے نتائج اوپینئیر پولز اور ایگزٹ پولز سے مختلف آنے کے بعد کانگرس نے فوری الزام تراشی نہیں کی تھی بلکہ الیکشن کے عمل، ووٹر لسٹوں سمیت تمام پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی اور اب راہول گاندھی ووٹ چوری کے ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئے اور ریاستی اسمبلی مین بھاجپا کی 2-24 کی حیران کرنے والی جیت کو ووٹ چوری اور دھاندلے کا کرشمہ قرار دے دیا۔
یہ ہی نہیں راہل گاندھی نے آج یہ بھی کہہ دیا کہ بہار اسمبلی کے الیکشن میں بھی ہریانہ اسمبلی الیکشن کی ہسٹری دہرائی جائے گی۔ بہار اسمبلی میں الیکشن کل 6 نومبر کو ہو رہا ہے اور الیکشن کا دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہو گا۔ دونوں مرحلوں کے ووٹ الیکشن کمیشن کے دفاتر میں بیتھ کر گنے جائیں گے اور 12 نومبر کو نتیجے سامنے آئیں گے۔
راہول گاندھی نے آج براہ راست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن آف انڈیا پر باہم گٹھ جوڑ کر کے ہریانہ اسمبلی انتخابات 2024 میں بڑے پیمانے پر ووٹوں کی چوری اور دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل اس سے پہلے بھی الیکشن کمیشن کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی دھاندلی اور ووٹ چوری میں شراکت دار قرار دیتے آ رہے ہیں۔ راہل نے ایسا کہنے کا آغاز کئی ماہ پہلے کیا۔ یہ بھارت کی سیاست میں بہت بڑی کروٹ ہے۔ اس سے پہلے نہ الیکشن کمیشن نے کبھی ایسی قابلِ اعتراض سرگرمیاں کیں، نہ کبھی الیکشن کمیشن کو کسی سیاسی پارٹی نے یوں دھاندلے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ راہل گاندھی اور اپوزیشن اتحاد اب کھل کر بتا رہے ہیں کہ نریندر مودی نے اپنے مسلسل اقتدار کے دوران کئی دوسرے ریاستی اداروں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے اندر بھی سرنگ لگا کر بتدریج اپنا اثر بڑھایا اور اب الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔
ہریانہ میں ووٹ چوری کے سو فیصد ثبوت
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس ’’100 فیصد ثبوت‘‘ موجود ہیں کہ ہریانہ میں تقریباً 25 لاکھ جعلی ووٹ ڈالے گئے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا 12 فیصد بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں 2 کروڑ ووٹرز ہیں جن میں سے 25 لاکھ جعلی ہیں۔ ہر 8 میں سے 1 ووٹر فرضی ہے، ان کی ٹیم نے 5.21 لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹر انٹریز دریافت کیں۔
برازیل کی ماڈل کے جعلی ووٹوں کا دلچسپ قصہ
راہول گاندھی نے نیوز کانفرنس میں یہ سنسنی بھرا انکشاف بھی کیا کہ ایک برازیلین ماڈل میتھیوز فیریرو کی تصویر کو مختلف ناموں سیما، سویٹی اور سرسوتی اور دیگر کے ووٹ بنانے کے لئے بار بار استعمال کیا گیا تاکہ وہ بظاہر 22 مرتبہ ووٹ ڈال سکے۔
???????????????? ???????? ???? ???????????????????????????????????? ???????????????????? ???????????????????? ???????? ????????????????????????????'???? ???????????????????????????????????? ?????????????????
— Congress (@INCIndia) November 5, 2025
❓ Who is this lady?
❓ How old is she?
❓ Where is she from?
She voted 22 times in Haryana, across 10 different booths in the state, using multiple names: Seema,… pic.twitter.com/3VHdBDLc14
یہ ایک منظم منصوبہ تھا تاکہ کانگریس کی یقینی جیت کو شکست میں بدلا جا سکے۔
راہل نے یاد دلایا کہ تمام ایگزٹ پول کانگریس کی جیت کی پیشگوئی کر رہے تھے، لیکن پہلی بار ہریانہ کی تاریخ میں پوسٹل بیلٹ اور اصل ووٹوں میں فرق آیا تھا۔
راہول گاندھی نے یاد دلایا کہ ہزاروں بی جے پی کارکنوں اور رہنماؤں نے یک وقت اتر پردیش اور ہریانہ دونوں ریاستوں میں ووٹ ڈالے۔ ایک بی جے پی لیڈر کے پتے پر 66 ووٹر درج ہیں، جب کہ ایک اور کے گھر پر 500 ووٹر رجسٹر ہیں۔
بھارتی سیاستدان نے الزام لگایا کہ کچھ جعلی ووٹروں کے پتے ’ہاؤس نمبر زیرو‘ درج کیے گئے تھے، جو دراصل بے گھر افراد کے لیے مخصوص ہوتا ہے ، مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ باقاعدہ گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔
ہریانہ کے بعد بہار؛ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر پر انگلی اٹھادی
راہول گاندھی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر عوام سے جھوٹ بول رہا ہے اور یہی سرکار چوری کرنے کا منصوبہ اب بہار انتخابات میں دہرایا جائے گا، جو کل سے شروع ہو رہے ہیں۔
جو ہریانہ میں ہوا، وہی بہار میں ہوگا
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ جو کچھ ہریانہ میں ہوا، وہی بہار میں ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق بہار میں بھی ووٹر فہرست میں دھاندلی کی گئی ہے۔ راہل گاندھی کا دعویٰ ہے کہ انہیں ووٹر لسٹ آخری لمحے میں دی گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے بہار کے کئی ووٹروں کو اسٹیج پر بلایا اور کہا کہ ان کے نام ووٹر فہرست سے کاٹ دیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پورے کے پورے خاندانوں کے نام فہرست سے حذف کر دیے گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بہار میں لاکھوں لوگوں کے نام کاٹے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں جین زی اور نوجوان ہی سچائی اور عدم تشدد کے راستے پر چل کر جمہوریت کو بچا سکتے ہیں۔
’چیف الیکشن کمشنر نے ملک کے عوام سے جھوٹ بولا‘
راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں انتخابی فہرستوں میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ڈال چند اتر پردیش میں بھی ووٹر ہے اور ہریانہ میں بھی ووٹر ہے۔ اس کا بیٹا بھی ہریانہ اور یوپی دونوں جگہ ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہے اور دونوں ہی جگہ بی جے پی کو ووٹ دیتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ہزاروں لوگ ہیں جن کا بی جے پی سے تعلق ہے اور جن کے نام مختلف ریاستوں کی ووٹر لسٹوں میں درج ہیں۔ راہل گاندھی نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’’متھرا کے سرپنچ پرہلاد کا نام بھی ہریانہ کی کئی ووٹر لسٹوں میں شامل ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوام سے جھوٹ بولا۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’جن لوگوں کے پاس گھر نہیں ہوتے، ان کے نام کے سامنے مکان نمبر ’صفر‘ درج کیا جاتا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا، ’’ہم نے اس دعوے کی جانچ کی ہے، یہ سراسر غلط ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ملک کی عوام سے کھلے عام جھوٹ بولا ہے۔‘‘
’بی جے پی نے ہریانہ میں 25 لاکھ ووٹ چرائے، 5 لاکھ سے زائد جعلی ووٹر فہرست میں شامل‘
راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایب سنگھ سینی کی پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں سینی یہ کہتے نظر آئے کہ ’’ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارے پاس انتظام ہے، ہم الیکشن جیتیں گے۔‘‘ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ کیسا انتظام ہے، جس کا ذکر سینی نے کیا؟ انہوں نے کہا کہ جب ہر سروے اور ہر پول میں یہ دکھایا جا رہا تھا کہ کانگریس پارٹی ہریانہ میں جیتنے جا رہی ہے، تو پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ بی جے پی نے الیکشن جیت لیا؟ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وہ ثبوت پیش کر رہے ہیں اور دکھا رہے ہیں کہ بی جے پی نے ہریانہ میں کس طرح انتخاب جیتا۔ ان کے مطابق ہریانہ کے انتخابات میں 25 لاکھ ووٹ چرائے گئے اور ووٹر لسٹ میں 5 لاکھ 21 ہزار 619 جعلی ووٹر شامل تھے۔
’ایک پولنگ بوتھ پر ایک خاتون کا نام 233 مرتبہ درج‘
راہل گاندھی نے انکشاف کیا کہ ایک ہی خاتون کا نام ایک پولنگ بوتھ پر 223 مرتبہ درج تھا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ اس خاتون نے آخر کتنی بار ووٹ ڈالا۔ طنزیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ ’’شاید الیکشن کمیشن کو اس کارکردگی پر شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔‘‘
’کہیں سیما، کہیں سرسوتی... ایک خاتون نے 22 مرتبہ ووٹ ڈالا‘
راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک خاتون کی تصویر دکھاتے ہوئے حیران کن انکشاف کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ہی خاتون نے مختلف ناموں سے 22 مرتبہ ووٹ ڈالا۔ راہل گاندھی نے بتایا کہ یہ خاتون کہیں ’سیما‘، کہیں ’سرسوتی‘ کے نام سے درج تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’یہ برازیلی خاتون ہریانہ کی ووٹر لسٹ میں آخر کر کیا رہی تھی؟‘‘
راہل گاندھی کے مطابق ہریانہ میں 5 زمروں میں مجموعی طور پر 25 لاکھ ووٹ چرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان زمروں میں سے ایک میں 5 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ جعلی ووٹر پائے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست میں کل تقریباً دو کروڑ ووٹر ہیں، اس لحاظ سے ہر آٹھواں ووٹ جعلی نکلا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اسی منظم ووٹ چوری کے باعث کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک لڑکی دس جگہ ووٹ ڈالنےگئی
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو حذف کر دیا گیا، کیونکہ اگر وہ فوٹیج باقی رہتی تو صاف ظاہر ہو جاتا کہ اس بوتھ پر کیا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لڑکی نے 10 مختلف مقامات پر ووٹ ڈالا، جبکہ جعلی تصویروں والے 1 لاکھ 24 ہزار 177 ووٹرز ووٹر لسٹ میں پائے گئے۔ اسی طرح ایک خاتون نے 9 جگہ ووٹ ڈالا۔
راہل گاندھی کے مطابق یہ سب کچھ دانستہ طور پر کیا گیا تاکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ چوری ’’جنریشن زی‘‘ کو دیکھنی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ جمہوریت کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کا گھساپِٹاجواب
الیکشن کمیشن نے راہول گاندھی کے سنگین الزامات کا وہی ہر بار والا گھسا پیٹا بودا جواب دیا ہے کہ ہریانہ کی ووٹر لسٹ کے خلاف کوئی باضابطہ اپیل دائر نہیں کی گئی، اور 90 نشستوں میں سے صرف 22 حلقوں سے انتخابی پٹیشنز زیرِ سماعت ہیں۔ گزشتہ ووٹ چوری اور ووٹر لسٹ گھوٹالے سامنے آنے کے بعد بھی الیکشن کمیشن نے یہی کہا اور ضد کی کہ با ضابطہ شکایتیں سامنے لائی جائیں۔ اس کے قانونی فورم پر تو کوئی نتیجہ اب تک نہیں نکلا لیکن بھارت بھر میں نریندر مودی کی حکومت کو "ووٹ چوری کی سرکار" مانا جانے لگا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر ڈپلیکیٹ اندراجات موجود بھی ہیں، تو یہ کہنا ناممکن ہے کہ وہ ووٹ بی جے پی کو ہی گئے ہیں۔