ملک اشرف : چھ سال قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی پنجاب پولیس کے لیے ایک پیچیدہ معمہ بن چکی ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود اب تک مغوی خاتون کا سراغ نہ لگایا جا سکا۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور ایک مرتبہ پھر لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہوں گے ۔
مغویہ فوزیہ بی بی کی والدہ حمیداں بی بی نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم سماعت چھ نومبر بروز جمعرات کریں گی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس کی بیٹی کو 2019 میں تھانہ کاہنہ کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا، اور مقدمے میں مغویہ کے شوہر اور ساس کو نامزد کیا گیا تھا، تاہم چھ سال گزر جانے کے باوجود اس کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔،دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کیس میں خاتون کی والدہ نے بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو جنات لے گئے ہیں، جس کے بعد معاملہ مزید پراسرار رخ اختیار کر گیا۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور چھ نومبر بروز جمعرات عدالت عالیہ کے روبرو پیش ہوں گے۔ وہ اس سے قبل دو مرتبہ عدالت میں پیش ہوکر مغوی خاتون کی بازیابی کے لیے مہلت لے چکے ہیں۔آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں نو رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے، جس میں اسپیشل برانچ، سی سی ڈی، انویسٹیگیشن ونگ اور آئی بی کے افسران شامل ہیں۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اتنے طویل عرصے بعد بھی خاتون کا سراغ نہ لگنا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ چھ نومبر کو ہونے والی سماعت میں آئی جی پنجاب عدالت کو کیا پیش رفت رپورٹ پیش کرتے ہیں اور آیا فوزیہ بی بی کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ٹھوس سراغ مل سکا ہے یا نہیں۔