ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس میں اہم پیشرفت

ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس میں اہم پیشرفت


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس کے مرکزی ملزم حماد ارشد کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت  ہوئی، عدالت نے فریقین کے وکلاء کو 15 نومبر کو دلائل کے لیے طلب کر لیا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 13 نومبر 2018  

تفصیلات کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ  نے حماد ارشد کی درخواست پر سماعت کی ، درخواست گزار کی جانب سے گرفتاری کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی گئی کہ بے قصور ہونے کے باعث اس کی درخواست ضمانت منظور کی جائے، نیب پراسیکوٹر نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 14جون 2010 کو ڈی ایچ اے اور گلوبیکو کے حماد ارشد کے درمیان معاہدہ طے پایا، نیب کو2مارچ 2011 کو ملزمان کے خلاف پہلی شکایت موصول ہوئی، فروری 2015 کو نیب نے شکایات کی تصدیق کی، شہری نعمان داؤد اور ڈی ایچ اے کی جانب سے شکایت پرچارمئی کو حماد ارشد، مراد ارشد سمیت دیگر کے خلاف انکوائری شروع کی گئی۔

ملزم نے 25 ہزار کنال اراضی کی بجائے 2ارب10 کروڑ سے 13 ہزار 92 کنال،چار ٹکڑوں کی شکل میں دی،حماد ارشد کی جانب سے فراہم کی گئی اراضی دریا میں ہے،جہاں سڑک ہی نہیں جاتی، ملزم حماد ارشد نے 10 ہزار 5 سو 45 جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے، حماد ارشد اور دیگر ملزمان نے جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرکے 15 ارب 47 کروڑ اور 60 لاکھ روپے بٹورے، 25ہزار کنال اراضی میں سے 30 فیصدپلاٹس شہداکو دیے جانے تھے۔

حماد ارشد نے 5 جون 2013 کو ڈی ایچ اے کی مرضی کے بغیر 1 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد رقم اکاؤنٹ سے نکلوای ، شریک ملزم حماد ارشد نے 10 ارب 98 کروڑ روپے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرادیے، اس کے علاوہ شریک ملزمان کامران کیانی اور طارق صدیق کو احتساب عدالت مفرور قرار دے چکی ہے۔ نیب پراسیکوٹر نے مزید بتایا کہ ملزمان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کیلیے نیب کی جانب سے وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:شہباز شریف کو ٹھنڈ لگ گئی

 

محمد ساجد

محمد ساجد