ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فضل الرحمان کی  قومی یک جہتی بڑھانے کے لئے قومی اسمبلی سے  واپسی

 فضل الرحمان کی  قومی یک جہتی بڑھانے کے لئے قومی اسمبلی سے  واپسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: جمعیتِ علماِ اسلام کے امیر، کہنہ مشق سیاستدان فضل الرحمان انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے عروج کے دنوں مین قوم ییکجہتی کو فروغ دینے کے لئے قوم یاسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔

مولانا نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنے واک آؤٹ کی وجہ یہ بتائی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس مین تھوڑے لوگ شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے قومی یک جہتی کو بڑھانے کے لئے حکومتی  کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہ ہونے پر تنقید کی۔  مولانا نے اس سے پہلے قوم یاسمبلی کے اجلاس میں نکتہِ اعتراض پر بولتے ہوئے  بتایا کہ قوم یاسمبلی کے اجلاس میں انہیں سنجیدگی نطر نہیں آ رہی۔
 مولانا نے حکومت مین نقص نکالتے ہوئے کہا،  سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومتی بنچوں پر نشستیں خالی ہیں۔  حکومت کو چاہیے تھا کہ ایوان کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے۔

مولانا نے دعویٰ کیا کہ میں بڑے جوش سے پارلیمنٹ آیا تھا، ایسے حالات ہیں اور ایوان میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ یہ کہتے ہوئے مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کے اجلاس سے  واپس چلے گئے۔ میڈیا کی بعض آؤٹ لیتس نے مولانا کے قوم یاسمبلی سے واپس جانے کے غیر سنجیدہ اقدام کو "واک آؤٹ" قرار دیا۔ اس  نام نہاد واک آؤٹ کی رپورٹس کئی آؤٹ لیٹس پر پبلش ہونے کے بعد مولانا کی طرف سے اس کی کوئی وضاحت نہیں آئی کہ کیا یہ واقعی کوئی واک آؤٹ تھا۔ اگر یہ واک آؤٹ تھا تو مولانا جیسے گرگِ باراں دیدہ پارلیمنٹیرین کو حکومت لی کسی بات پر کسی اعتراض کے بگیر واک آؤٹ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے رسمی باتیں دہرائیں اور کہا، بھارتی جارحیت پاکستان کی سلامتی کے لیے مسئلہ ہے، قوم پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کرتی ہے۔ آج اسمبلی میں توقع تھی کہ قرارداد آئےگی، موجودہ صورتحال پربحث ہوگی۔  نہ وزیراعظم نہ وزیرخارجہ نہ کوئی اہم وزیر ایوان میں موجود تھا، اسمبلی میں ہم بانسری کس کے سامنے بجائیں۔بھارت نے حملہ کردیا تو داخلی صورتحال کی کیا سٹریٹجی ہے، ہم پارلیمنٹ میں کارروائی کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے باہر آگئے۔