لاہور میں کورونا کی کونسی خطرناک قسم موجود، ماہرین کا چونکا دینے والا انکشاف

Corona in Lahore
Corona Virus

زاہد چودھری: کورونا وائرس پر چغتائی لیب کی تحقیق، پروفیسر اختر سہیل چغتائی کی سربراہی میں کورونا وائرس پر تحقیق کی گئی۔ کورونا وائرس کی لاہور میں97 فیصد برطانوی قسم کی موجودگی پائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پروفیسر اختر سہیل چغتائی کی سربراہی میں کورونا وائرس پر تحقیق کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں 97 فیصد برطانوی قسم کا کورونا وائرس موجود ہے جبکہ 2 فیصد کیسز میں کورونا کی جنوبی افریقی قسم پائی گئی۔ لاہور میں کورونا کی بھارتی قسم کی موجودگی کا کوئی ناموں نشان موجود نہیں ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر وحیدالزماں اور ڈاکٹر سعادت علی نے تحقیق کی جبکہ ڈاکٹر عمر چغتائی بھی کورونا ریسرچ میں شامل تھے۔

دو روز قبل وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر بھارت میں تباہی مچانے والا وائرس لاہور آچکا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وائرس سے بچاؤ کا واحد طریقہ مکمل ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا اور ویکسینیشن لگانا ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ انڈیا سے وائرس پاکستان نہیں آ سکتا کیونکہ انڈین وائرس یو اے ای کے ذریعہ پاکستان بآسانی آ سکتا ہے, جب شروع میں وائرس وہان میں آیا تھا تو کوشش کی گئی تھی کہ یہ وائرس وہان تک رک جائے, پھر کوشش کی گئی کہ یہ وائرس چائنہ تک رک جائے, لیکن یہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا۔

ان وائرس سے بچنے کاواحد حل ایس او پیز پر عملدرآمد ہے، دوسرا جتنا ہوسکے ایکسرسائز کریں روزے رکھیں، پھل اور سبزیاں کھائیں کیونکہ ان سے ہی آپ کی قوت مدافعت مضبوط ہوگی، جبکہ چائنیز ویکسین جو حکومت کی طرف سے لوگوں کو لگ رہی ہے اس سے آپ 75 فیصد وائرس سے بچ سکتے ہیں لیکن خطرناک بیماری سے سو فیصد یہ ویکسین آپ کو بچاتی ہے۔

 ڈاکٹر جاوید اکرم نے خبردار کیا کہ  زیادہ سے زیادہ لوگ ویکسین لگوائیں، خدا کے لئے سموسے پکوڑے کھانا رمضان میں چھوڑ دیں، ایک تو یہ آپ کی صحت خراب کرتے ہیں اور دوسرا جب آپ بازار سے سموسے پکوڑے لینےجاتے ہیں تو وائرس بھی اپنے ساتھ گھر لے آتے ہیں.