ویب ڈیسک:سندھ کے ضلع سجاول میں سال 2026 کا پہلا پولیو کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور انسداد پولیو حکام نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق سجاول کی بیلو یونین کونسل میں چار سالہ بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کی تصدیق قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی۔
پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں نگرانی اور ویکسینیشن کے اقدامات تیز کر دیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان میں 1990 کی دہائی میں سالانہ تقریباً 20 ہزار پولیو کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025 تک کم ہو کر 31 کیسز رہ گئے تھے۔
حکام کے مطابق رواں سال ملک گیر پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی ہے، جبکہ اپریل میں ایک اور مہم شروع کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔
سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع اب بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رسک زون میں شامل ہیں۔
نیشنل ای او سی کے ترجمان نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے ویکسین لازمی لگوائیں۔