عرفان ملک:دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق آڈٹ رپورٹ تیار کر کے مریم نواز کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں اعدادوشمار پر مبنی تحقیق اور سکیورٹی اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی 73 یونیورسٹیوں کو سکیورٹی کے لحاظ سے مختلف کیٹگریز میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب کے 74 کالجز اے اور 2969 کالجز بی کیٹگری میں شامل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح 162 سکولوں کو اے پلس جبکہ 4149 سکولوں کو اے کیٹگری میں رکھا گیا ہے، جبکہ 33 ہزار 700 سکول بی کیٹگری میں شامل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے سکیورٹی ایس او پیز تشکیل دے دیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد لازم قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 162 تعلیمی اداروں میں سی ٹی ڈی کی ہنگامی مشقیں بھی کی گئی ہیں، جبکہ 700 تعلیمی اداروں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ مشقیں کرائی گئی ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں تعلیمی اداروں کی باؤنڈری والز، خار دار تاروں کی تنصیب اور کلوز سرکٹ کیمروں کے ریکارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں ایک لاکھ 45 ہزار 902 اساتذہ نے پبلک سیفٹی ایپ کا پینک بٹن ڈاؤن لوڈ کر لیا ہے، جبکہ گزشتہ سال 14 دسمبر سے اب تک 34 ہزار 269 تعلیمی اداروں میں ایپ انسٹال کی جا چکی ہے۔
حکام کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ سکیورٹی انتظامات اور نامکمل ایس او پیز کی تکمیل پر کام جاری ہے۔