ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب:بجٹ میں 54 ارب روپے سے زائد کی نئی ترقیاتی سکیمیں تجویز

پنجاب:بجٹ میں 54 ارب روپے سے زائد کی نئی ترقیاتی سکیمیں تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

حسن علی:   پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں نئی ترقیاتی سکیموں کے لیے 54 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔ منصوبوں کا محور ڈیجیٹل، گرین اور ایکسپورٹ پر مبنی معیشت کا فروغ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) نے متعدد اہم منصوبے تیار کیے ہیں جن میں چیف منسٹر پرائیوریٹی پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

سموگ کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی 10 ارب روپے کا خصوصی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جبکہ ایکسپورٹ گروتھ اینڈ ٹریڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے چیف منسٹر ایکولائزیشن پروگرام پر 15 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اسی طرح پانی کی نکاسی اور نہری نظام کی بہتری کے لیے 5 ارب روپے کا منصوبہ بھی بجٹ تجاویز کا حصہ ہے۔

حکومت نے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو اور استعداد کار میں اضافے کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے بھی 2 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سماجی و معاشی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے 3 ارب 73 کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید آرٹیفشل انٹیلی جنس پلیٹ فارم متعارف کرانے اور لاہور و فیصل آباد میں گرین انڈسٹریز کے فروغ کے لیے خصوصی مطالعات شروع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق پی بی آئی ٹی کے تحت سٹیزن فیسلیٹیشن اینڈ سروس سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ سی ای آر سی ڈیزاسٹر ریکوری ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے ایک ارب 44 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکومت نے ای بزنس پورٹل کو مزید جدید بنانے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ اور نئے دفتر کی تعمیر، اکنامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تحقیقی استعداد بڑھانے اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs Plus) پروگرام کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

مزید برآں، ون میپ پنجاب پروگرام کے تحت پورے صوبے کا جامع ڈیجیٹل نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔