ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایندھن کی قیمتوں میں کمی بے اثر، اشیائے خورونوش بدستور مہنگی

ہ ایندھن سستا ہونے کے باوجود روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے اپنی بلند سطح پر برقرار ہیں

ایندھن کی قیمتوں میں کمی بے اثر، اشیائے خورونوش بدستور مہنگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عثمان خادم:   پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کے باوجود اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ آ سکی، جس کے باعث شہری بدستور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے باوجود روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے اپنی بلند سطح پر برقرار ہیں۔

مارکیٹ سروے کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ درجہ اول کوکنگ آئل اور گھی کی قیمت 605 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح چاول 310 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جس سے گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

گوشت کی قیمتیں بھی شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں مٹن 1 ہزار 600 روپے اور بیف 800 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ نان بائیوں کی جانب سے 14 روپے کی سرکاری روٹی 20 روپے میں فروخت کیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

دوسری جانب دودھ اور دہی کے سرکاری نرخ بھی صرف کاغذوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دودھ، جس کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے، مارکیٹ میں 240 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ دہی بھی سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر 260 روپے فی کلو دستیاب ہے۔

مارکیٹوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی سرکاری ریٹ لسٹ سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عوام کو روزمرہ خریداری میں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے اور ضلعی انتظامیہ اشیائے ضروریہ کے سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی سے حقیقی ریلیف مل سکے۔