ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برہان وانی آزادی کا سپاہی

برہان وانی آزادی کا سپاہی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: برہان وانی جموں کشمیر میں کم  عمر کمانڈر تھا جس نے  نوجوان  سٹوڈنٹس کو  اکھٹا کر کے کشمیری مذاحمت میں اہم کردار ادا کیا اور سوشل میڈیا کا استعمال کرکے تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کیا

برہان وانی جموں و کشمیر میں متحرک آزادی پسند جہادی تنظیم حزب المجاہدین کے کم عمر کمانڈر تھے۔ 8 جولائی 2016ء کو بھارتی فوج سے ایک جھڑپ میں شہید ہوئے۔ان کی ہلاکت کے بعد کشمیری مذاحمت کی تاریخ میں سب سے طویل ترین مظاہروں کا آغاز ہوا۔

 یہ نوجوان   اسکول پرنسپل کے ہاں شریف آباد گاؤں میں پیدا ہوا۔پندرہ سال کی عمر میں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لیے 2011ء میں حزب المجاہدین میں شامل ہوا، انھوں نے رائفل اٹھانے سے زیادہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی ۔ سماجی رابطوں پر وہ مقبول رہے جہاں وہ اپنی تصاویر اور وڈیوز بھیجا کرتے تھے اور نوجوانوں کو تحریک آزادی کشمیر میں شامل ہونے کے لیے راغب کرتے۔ان کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کو  بھارتی  فوج کی جانب سے 2015ء میں شہید کیا گیا جب وہ اپنے تین ساتھیوں  کے ہمراہ ایک سیاحتی مقام کی جھیل پر تفریح پروگرام میں مصروف تھے۔شہادت کے بعد بھارتی  فوج نے الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کو مسلح تنظیم میں شامل کرنے جا رہے تھے جبکہ بھارتی  پولیس نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ان کے رشتہ داروں اور والد نے ایسے الزامات کی تردید کی۔ ان کے مطابق انھیں صرف ان کے بھائی یعنی برہان کے سبب شہید کیا گیا ہے۔

بھارتی  حکومت نے مظفر وانی کی  سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر  رکھی تھی۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں برہان نے کشمیر کے نوجوانوں کو مذاہمتی تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی ۔ ان کی اپیل کی وجہ سے کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کشمیر میں شامل ہونا شروع ہوئے۔ تحریک تعلیمی اداروں تک پہنچی ۔

وہانی کشمیر میں غیر کشمیری ہندوؤں کی آباد کاری کے خلاف تھے۔ وہ کشمیر کو اسرائیل فلسطین طرز پر بدلنے کی مخالفت کرتے تھے جہاں مذہب کی بنیاد پر کشمیر کا معاشرہ تقسیم ہو۔وہ کشمیر کے مقامی ہندوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک کشمیر ی پنڈت کشمیر کے حقیقی باشندے تھے اس لیے کشمیر میں ان کی واپسی کے حق میں تھے۔ انھوں نے امر ناتھ یاترا کی حمایت میں بیان دے کر ہند مسلم فسادات کی مودی کی سازش کو ناکام بنایا اور کشمیر میں ہندو مسلم فسادات نہیں ہونے دئے۔ البتہ وہ فوج کو  واضح کہتے تھے کہ  کشمیر پر جبری قبضہ ختم کیا جائے اور کشمیر چھوڑنے تک جنگ رہے گی۔ برہان وہانی سے بھارتی فورسز میں خوف طاری تھا۔ برہان وہانی چار سال کے مختصر عرصے میں کشمیری نوجوانوں کے آئیڈیل بن چکے تھے اورنوجوان تحریک میں شامل ہو رہے تھے۔ برہان وہانی کی تصویر گھر گھر کی دیوار پر آویزاں تھی

۔8 جولائی 2016 کو دو ساتھیوں کے ہمراہ بھارتی فوج نے دو گھنٹے جاری رہنے والے ایک بڑے مقابلے میں شہید کر دیا۔ان کے شہادت پر کشمیر میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی اور چھ ماہ تک مسلسل کرفیو لگا رہا۔ مظاہروں میں  111 افراد شہید جبکہ دو سو افراد زخمی ہوئے۔ کشمیری رہنماؤں نے اس کی مزمت کی۔ کئی رہنماؤں کو حراست جبکہ کچھ کو نظربند کیا گیا وادی میں انٹرنیٹ و فون سروس بند کی گئی جبکہ اس سال امرناتھ مندر یاترا کے پروگرام کو بھی معطل کیا گیا۔ وہانی  کے جنازے میں 10 لاکھوں افراد نے شرکت کی جو چھ مختلف جگہوں پر ادا کی گئی۔ان کی قبر ان کے بھائی کی قبر کے پہلو میں ہے۔ انھیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔ پاکستان میں بھی سوگ منایا گیا جب کہ آزاد کشمیر میں تین روز کا سوگ اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔پاکستانی وزارت خارجہ نے برہان کی ہلاکت کی مذمت کی اور مظاہرین کی ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران  برہان مظفر وانی کو آزادی کا سپاہی قرار دیا