ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پولیس کی روایتی سلامی سے بابا مخدوم شاہ ماہمی کے میلہ کا آغاز ہوگیا

Maham Mela, Mumbai Police, Secular culture, City42, Hindutva , Narendra Modi, Zehni Mareez
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارت میں بہت کچھ نریندر مودی کی ہندوتوا کو مسلط کرنے کے لئے  پچیس سال سے جاری جبر کی نذر ہو گیا لیکن بمبئی میں بابا مخدوم شاہ ماہمی کے عرس اور میلے پر ہندو مسلم تمام کمیونٹیز  کا اجتماع اب بھی  ہمیشہ جیسی آب و تاب کے ساتھ ہو رہا ہے۔

عرس شریف ایک ہفتہ پہلے ختم ہو گیا تھا، آج بمبئی میں 10 روزہ ’ماہم میلہ‘ کا آغاز ہوا تو بمبئی کی پولیس  کے جوانوں نے اپنی  روایت کے مطابق ادارہ کی طرف سے سلامی پیش کی، پہلا صندل پیش کیا اور مزار پر چادر چڑھائی۔ زائرین کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات ہمیشہ کی طرح بے مثال ہیں۔
بمبئی پولیس ہر سال بابا مخدوم شاہ ماہمی کے آستانہ پر سلامی اور پہلا صندل پیش کر  کے میلے کا باقاعدہ آغاز کرتی ہے۔ بمبئی پولیس کے ذریعے پہلا صندل پیش کرنے کی روایت 100 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔


 آج بروز جمعہ بمبئی کے سالانہ ’ماہم میلہ‘ کا آغاز ہو گیا۔ اس روایتی ماہم کے میلے کی شروعات بمبئی پولیس کے ذریعے چادر پوشی سے ہوتی ہے۔ شام 4.30 بجے کے قریب قرآن خوانی اور رات 9 بجے کے قریب پہلے صندل سے باقاعدہ طور پر ماہم کے اس میلے کا آغاز روایت کے مطابق ہوا۔ 1901 سے جاری اس روایتی 10 روزہ میلے میں دور دراز سے عقیدت مند شرکت کے لیے ماہم پہنچتے ہیں اور آستانہ حضرت مخدوم شاہ ماہمی سے گل و چادر پیشی کے ذریعے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
 بمبئی پولیس کے جوانوں کی جانب سے بابا مخدوم شاہ ماہمی کے آستانہ پر سلامی اور پہلا صندل پیش کرنے سے میلے کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ بمبئی پولیس کے ذریعے پہلا صندل پیش کرنے کی روایت 100 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔

 مانا جاتا ہے کہ بمبئی پولیس کو آستانہ مخدوم شاہ ماہمی سے کافی انسیت ہے۔ ماہم درگاہ کے منیجنگ ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ماہم کا میلہ 1901 سے گزیٹیڈ ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی قطب کوکن حضرت مخدوم علی شاہ ماہمی کا 612واں سالانہ عرس مبارک اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عرس الگ ہے اور ماہم کا میلہ الگ ہے۔ دونوں تقریبات ہی قطب کوکن حضرت مخدوم شاہ ماہمی سے منسوب ہیں۔
سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ماہم کے تاریخی میلے کا آغاز بمبئی پولیس کی چادر پیشی سے ہوتا ہے۔ یہ روایت 124 سال پرانی ہے۔ ماہم کے میلے میں بمبئی کے اطراف کے علاوہ دور دراز سے لوگ عقیدت و محبت اور تفریح کی غرض سے شرکت کرتے ہیں۔ سالانہ میلے میں تقریباً 10 لاکھ زائرین شرکت کرتے ہیں۔ درگاہ میں صبح بعد نماز فجر سے زیارت شروع ہوتی ہے اور یہ سلسلہ دیر رات 1.30 بجے تک جاری رہتا ہے۔


 سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ماہم کے میلے کے دوران عقیدت مندوں کے ذریعے 10 روز میں تقریبا 400 صندل پیش کیے جاتے ہیں۔ 200 سے زائد دکانیں لگتی ہے۔ جھولے اور دیگر تفریح کے لوازمات کا بھی انتظا م کیا جاتا ہے۔ میلے کا انتظام درگاہ کمیٹی اور ایجنسی کے تعاون سے انجام دیا جاتا ہے۔
ماہم کا 10 روزہ میلہ 5 دسمبر سے شروع ہو کر 14 دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس دوران زائرین بڑی تعداد میں ماہم کا رخ کرتے ہیں۔ علاقے میں زائرین کی کثیر تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بمبئی پولیس نے حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ رضاکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی سے نگرانی اور رات کے وقت روشنی کا معقول انتظام بھی کیا گیا ہے۔ زائرین کے جم غفیر کے سبب علاقے میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کے مدنظر بمبئی پولیس نے علاقے میں ٹریفک نظام اور آمد و رفت کے انتظام میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔