زاہد چودھری: کتے کے کاٹنے کے باعث ریبیز کا شکار ہونے والا 51 سالہ مریض میو اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق 51 سالہ فرید اللہ کو ریبیز کی علامات ظاہر ہونے پر میو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اسے ایسٹ میڈیکل وارڈ کے آئسولیشن یونٹ میں رکھا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق مریض میں ریبیز کی بیماری شدت اختیار کر چکی تھی اور تمام تر طبی کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہ جا سکا۔ فرید اللہ کتے کے کاٹنے سے ہونے والی مہلک بیماری ریبیز کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا۔
دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو اچھی طرح دھونا اور بلا تاخیر اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن (ضرورت کے مطابق) لگوانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی جانور، خصوصاً آوارہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں اور علاج میں ہرگز تاخیر نہ کریں۔
واضح رہے کہ شہر میں آوارہ کتوں کی بھرمار، کتا کاٹے کے واقعات میں اضافے پر شہری خوفزدہ، ضلعی انتظامیہ اگر مگر سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اینٹی سٹرے ڈاگ بریگیڈ بھی منظر عام سے غائب ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے آوارہ کتوں سے عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ ان کے تدارک کیلئے انتظامیہ کو اقدامات کرنے ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور مدثرریاض ملک کہتے ہیں آوارہ کتوں کی ویکسی نیشن اور نسل کشی کی منصوبہ بندی پر جلد عمل کیا جائے گا۔ آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے اینٹی سٹرے ڈاگ بریگیڈ بنائی گئی تھی جو ایک عرصہ سے غیر فعال ہے۔
آوارہ کتوں کے شہریوں کو کاٹنے کےبڑھتے واقعات نے سرکاری اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی تاہم آوارہ کتوں سے شہریوں کو بچانے کے لیے باتوں اور دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کو تلف کیا جائے۔گزشتہ چند روز میں کتے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔