سٹی42: وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت لاہور میں عوام کو سفر کی تیز اور سستی سہولتیں دینے کے لئے نئے ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ شروع کرنے جا رہی ہیں۔ ان پروجیکٹس پر کھربوں روپے لاگت آئے گی اور لاہور پیرس تو نہیں البتہ پیرس جیسا ضرور بن جائے گا جہاں شہر کے ہر کونے کنارے پر رہنے والے کم خرچ کے ساتھ شہر کے کسی بھی کونے کنارے تک اور شہر کے اندر قلب تک کم وقت میں سفر کر سکیں گے۔
اس وقت پنجاب کی حکومت تو ماس ٹرانزٹ کے نئے میگا پروجیکٹ بلیو لائن اور پرپل لائن تعمیر کرنے کی پلاننگ کر رہے ہے اور بیوروکریسی میں یہ کھچڑیاں پکائی جا رہی ہیں کہ ان میگا پروجیکٹس پر کام کرنے کا موقع کسے دیا جائے گا۔
بظاہر بلیو لائن اور پرپل لائن ماس ٹرانسپورٹ پروجیکٹس بھی ماضی کے دو بڑے ماس ٹرانزٹ پروجیکٹس کرنے والی ایل ڈی اے کو ہی ملیں گے لیکن ایل ڈی اے مین کون لوگ ان پروجیکٹس کو کریں گے، یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مریم خود کریں گی جو اب پنجاب کی بیوروکریسی کے ساتھ کام کرنے کا کم از کم ایک سال کا تجربہ تو حاصل کر ہی چکی ہیں۔
وزیراعلی مریم نواز نے انڈر گراونڈ ٹرین سسٹم کی تعمیر کے لئے پلاننگ کی غرض سے اہم اجلاس کل جمعہ کے روز رکھا تھا جو ان کی ان فور سین مصروفیات بڑھنے کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ اب اجلاس کب ہو گا یہ طے نہیں تاہم جلد ہی مریم نواز کو نئے ماس پروجیکٹس شروع کرنےکے لئے فیصلے کرنا ہیں، اس کے ساتھ ہی بجٹ 2025 میں ان پروجیکٹس کے لئے رقمیں مختص کروانے کا کام آغاز کرنا ہے، یہ پروجیکٹس شہر میں بہت بڑی اکھاڑ پچھاڑ سے شروع ہوں گے اور یہ اکھاڑ پچھاڑ کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس لئے مریم نواز کو ایک ہی بار سوچ سمجھ کر قابل بھروسہ اہلکاروں کی ٹیم منتخب کرنا ہے جو ان کے ویژن کو بھی فالو کر سکیں اور جن کی نیت ، کردار اور کاموں پر مریم نواز بھروسہ کر سکیں۔
ایل ڈی اے کے ذرائع کے مطابق ایک ڈی اے کے بعض افسر پر امید ہیں کہ مریم نواز دو میگا پروجیکٹس کرنے کے لئے آخر ایل ڈی اے کا ہی انتخاب کریں گی جو اس سے قبل میٹرو بس سروس اور اورنج لائن مکمل کرنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ ایل ڈی اے انجینئرنگ ونگ کے پاس انڈر گراونڈ ٹرین بنانے کی اہلیت اور تجربہ موجود ہے ۔ وزیراعلی بلیو اور پرپل لائن کے حوالے سے بہترین تعمیراتی ایجنسی اور اتھارٹی کی سلیکشن کی خواہاں ہیں ۔

مریم نواز کے قریبی ذرائع بتا رہے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم بنائیں گی اور اپنے طریقہ سے یہ کام انجام دیں گی جس کے لئے ادارے تو بہرحال وہی چنے جائیں گے جو یہ کام کرتے ہین لیکن ان اداروں سے یہ کام لینے کے لئے مریم نواز خود ہوں گی اور ان کی معاونت کرنے والے بااعتماد بیوروکریٹس کون ہوں گے یہ سرِ دست وہی جانتی ہیں۔