ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبرپختونخوا کے لوگوں کے مسائل کا حل صرف پشاور میں بیٹھ کر ممکن ہے؟

تحریر؛ عدیل احمد

خیبرپختونخوا کے لوگوں کے مسائل کا حل صرف پشاور میں بیٹھ کر ممکن ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

74 ہزار 521 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا خیبر پختونخوا جس کی آبادی چار کروڑ سے زیادہ ہے ، یہاڑوں سے لے کر میدانوں تک پھیلا ہو اور جس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر ہی گھنٹوں نہیں بلکہ بعض علاقوں میں پورا دن لے سکتا ہو تو کیا ایسے صوبے بڑے صوبے کے ہر شہری کے مسائل کا حل صرف پشاور میں بیٹھ کر ممکن ہے؟

 خیبر پختونخوا اس وقت سات ڈویژنز اور 33 اضلاع پر مشتمل ہے ، لیکن مسئلہ صرف اضلاع کی تعداد کا نہیں ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار، وسائل، بڑے سرکاری ادارے اور فیصلہ سازی عام شہری سے کتنی دور ہیں؟ ایک شہری اگر دور دراز ضلع سے کسی بڑے انتظامی یا سیاسی مسئلے کے لیے پشاور پہنچتا ہے تو کیا یہ واقعی مؤثر حکمرانی ہے؟ یا پھر ہمیں انتظامی نقشہ نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے؟ 

 اگر خیبر پختونخوا کو چھوٹے اور زیادہ قابلِ انتظام صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو ممکنہ طور پر چار یا پانچ انتظامی یونٹس زیر بحث آسکتے ہیں۔

 پہلا انتظامی یونٹ صوبہ ہزارہ ہو سکتا ہے جس کا درالحکومت اینٹ آباد کو بنایا جا سکتا ہے ،،، ہزارہ ڈویژن کے الگ صوبے کا مطالبہ کئی سال پرانا ہے اور حالیہ برسوں میں یہ مطالبہ دوبارہ زور پکڑ چکا ہے، دسمبر 2025 میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی عمل شروع کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

 دوسرا ممکنہ صوبہ ملاکنڈ ریجن کو بنایا جا سکتا ہے جس کا دارالحکومت مینگورہ کو بنایا جا سکتا ہے ،یہ صوبہ سوات، دیر، چترال اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں کے لیے ایک مضبوط علاقائی مرکز انتظامی فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔

 تیسرا انتظامی یونٹ وسطیٰ خیبر پختونخوا ہو سکتا ہے جس کا دارلحکومت پشاور کو بنایا جا سکتا ہے ، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، خیبر اور قریبی اضلاع پر مشتمل ایک نسبتاً مرکزی صوبہ اپنی موجودہ انتظامی اہمیت برقرار رکھ سکتا ہے۔

 جنوبی خیبرپختونخوا چوتھا انتظامی یونٹ بن سکتا ہے جس کا دارالحکومت ڈیرہ اسماعیل خان ہو سکتا ہے ، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان اور قریبی جنوبی اضلاع کو ایک الگ انتظامی اکائی میں منظم کیا جا سکتا ہے۔

 ایک پانچواں ماڈل بھی زیرِ غور آ سکتا ہے ، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور ملحقہ علاقوں پر مشتمل ایک الگ صوبہ، جس کا دارالحکومت کوہاٹ ہو۔

 لیکن یاد رکھیں یہ تقسیم کوئی سرکاری نقشہ نہیں، بلکہ انتظامی بنیاد پر ایک ممکنہ تصور ہے ، اصل حدود کا فیصلہ آبادی، جغرافیہ، وسائل، عوامی رائے، معاشی استعداد اور سیاسی اتفاقِ رائے کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔