ویب ڈیسک: ذیابیطس ایسا دائمی اور سنگین مرض ہے جس کا سامنا ہر 10 میں سے ایک فرد کو ہوتا ہے اور اس کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
زیادہ تر افراد کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا سامنا ہوتا ہے جو اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور 90 سے 95 فیصد کیسز میں اس کی تشخیص ہوتی ہے، اس سے ہٹ کر ذیابیطس ٹائپ 1 اور حاملہ خواتین میں ذیابیطس اس مرض کی دیگر اہم اقسام ہیں۔ذیابیطس کی تمام اقسام میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جانا جسے بلڈ شوگر کہا جاتا ہے۔
جب بھی آپ کچھ کھاتے ہیں تو بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر بلڈ شوگر کی سطح میں اکثر اضافہ ہو یا وہ مسلسل برقرار رہے تو اس سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ ذیابیطس سے متاثر ہونے یا اس کی شدت بدتر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ کے بعد گلوکوز کی سطح عروج پر ہوتی ہے۔اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں ہونے والے اضافے کی روک تھام کے لیے کچھ دیر کی چہل قدمی کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
جرنل Complementary Therapies in Medicine میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے کچھ دیر بعد چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کی سطح کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔اس تحقیق میں 573 افراد پر ہونے والی 31 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔
ان میں سے کچھ افراد صحت مند تھے جبکہ دیگر ذیابیطس ٹائپ 2 یا ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے۔ان تمام تحقیقی رپورٹس میں دیکھا گیا تھا کہ کچھ دیر کی ورزش سے بلڈ شوگر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان افراد میں چہل قدمی، سائیکلنگ، یوگا اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کو مدنظر رکھا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کے بعد بیٹھ کر وقت گزارنے کی بجائے مختصر جسمانی سرگرمیوں سے بلڈ گلوکوز اور انسولین کے ردعمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایسے افراد جو ہر 30 منٹ میں اٹھ کر اپنی جگہ سے حرکت کرتے ہیں یا چہل قدمی کرتے ہیں، انہیں سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔اس کے مقابلے میں ہر گھنٹے میں ایک بار محض اپنی جگہ کھڑے ہونے سے بلڈ شوگر پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔تحقیق کے مطابق ہر بار کھانے کے بعد 30 منٹ کے اندر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس سے قبل ستمبر 2023 میں جرنل اسپورٹس میڈیسن شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر بار کھانے کے بعد 2 سے 5 منٹ تک چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کی سطح کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد محض کھڑے ہونے سے بھی بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنا ممکن ہو سکتا ہے، مگر اس طرح کھڑے ہوں جیسے آپ قدم آگے بڑھا رہے ہوں۔محققین نے بتایا کہ ہر بار کھانے کے بعد کچھ وقت تک کھڑے رہنے سے بلڈ گلوکوز کی سطح میں اوسطاً 9.51 فیصد کمی آتی ہے۔مگر ان کا کہنا تھا کہ ہلکی پھلکی چہل قدمی سے بلڈ گلوکوز کی سطح میں اوسطاً 17.01 فیصد کمی آتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اپنی جگہ کچھ وقت تک کھڑے ہونے اور ہلکی پھلکی چہل قدمی سے دن بھر بیٹھ کر وقت گزارنے سے بلڈ گلوکوز کی سطح پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام ہوتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ کھڑے ہونے اور چہل قدمی سے مسلز میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے، جو اس کام کے لیے گلوکوز کو استعمال کرتے ہیں اور بلڈ شوگر کی سطح کم ہوتی ہے۔
تحقیق کے دوران 7 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ دن بھر میں ہر 30 منٹ بعد 2 سے 5 منٹ کے لیے کھڑے ہونے یا چہل قدمی سے بلڈ شوگر کی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد کھڑا ہونا بیٹھنے سے بہتر ہوتا ہے اور کچھ دیر کی چہل قدمی سے صحت کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کے بعد کچھ وقت کے لیے کھڑے ہونے سے بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے مگر انسولین پر کوئی اثر نہیں ہوتا، جبکہ چہل قدمی سے بلڈ شوگر کی سطح کم اور انسولین کی سطح مستحکم ہوتی ہے۔