سٹی 42 : پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر پیدا ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی اس بات پر ناراض ہوئے کہ حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) تک عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر برقرار رکھا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اچکزئی سے کہا کہ وہ پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کریں اور میڈیا کے سامنے یہ مؤقف اختیار کریں کہ اسٹے آرڈر تک وہ اپوزیشن لیڈر کا منصب قبول نہیں کریں گے۔ تاہم محمود اچکزئی نے یہ تجویز مسترد کردی اور ناراض ہو کر بلوچستان روانہ ہوگئے۔ اُنہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ چاہتے ہی نہیں کہ میں اپوزیشن لیڈر بنوں۔
رابطہ کرنے پر سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے اس خبر پر مؤقف دینے سے انکار کردیا۔
دوسری جانب ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان نے محموداچکزئی اور پی ٹی آئی میں ناراضی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود اچکزئی معمول کی سیاسی سرگرمیوں کیلئے کوئٹہ میں ہیں ، ان کے ناراض ہونے سے متعلق خبر میں صداقت نہیں۔
یاد رہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کیلیے محمود اچکزئی کی نامزدگی پر پارٹی کے اندر ہی اختلاف ہو گیا ہے جس کے بعد نہ صرف اُن کی بلکہ اعظم سواتی کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کو روک دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں نے محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر اعتراض کیا ہے۔ اعتراض کرنے والوں میں پی ٹی آئی سیاسی اور پارلیمانی کمیٹی کے چند ارکان ہیں۔ اراکین کا موقف تھا کہ پارٹی میں اپوزیشن لیڈر کے منصب پر ذمہ داری نبھانے کے لیے کئی باصلاحیت رہنما موجود ہیں تاہم دوسری جانب کچھ ارکان بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کو حتمی قرار دینے کے حق میں ہیں۔