ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کامیاب

آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کامیاب
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:حکومتِ پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اور ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

 وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی صدارت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کی، جبکہ وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، امیر مقام اور قمر زمان کائرہ بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔ آزاد کشمیر حکومت کی نمائندگی فیصل ممتاز راٹھور اور دیوان علی چغتائی نے کی جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی راجہ امجد، شوکت نواز میر اور انجم زمان نے کی۔

  معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کریں گے۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی فیصلوں پر عملدرآمد اور تنازعات کے حل کی ذمے دار ہوگی۔

  معاہدہ 12 بنیادی اور 13 اضافی نکات پر مشتمل ہے۔ اس کے مطابق پرتشدد واقعات پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے اور عدالتی کمیشن بھی بنایا جائے گا۔ یکم اور 2 اکتوبر کے واقعات میں جاں بحق افراد کے ورثا کو سیکیورٹی اہلکاروں کے برابر معاوضہ دیا جائے گا، زخمیوں کو 10 لاکھ روپے اور ورثا کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔

 معاہدے کے مطابق تعلیمی شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں 2 نئے تعلیمی بورڈ قائم کیے جائیں گے اور تمام بورڈز کو وفاقی بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔ منگلا ڈیم توسیعی منصوبے میں میرپور کے متاثرہ خاندانوں کو 30 دن میں زمین کا قبضہ دیا جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 کی روح کے مطابق 90 دن میں ترامیم کی جائیں گی۔ آزاد کشمیر حکومت 15 دن میں ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈز جاری کرے گی اور ہر ضلع میں مرحلہ وار ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں فراہم کی جائیں گی۔

 معاہدے کے تحت حکومت پاکستان آزاد کشمیر کے بجلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔ کابینہ کا حجم 20 وزرا یا مشیروں تک محدود ہوگا اور سیکرٹریز کی تعداد بھی 20 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن ادارہ ضم کیا جائے گا اور احتساب ایکٹ کو نیب قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

 مزید برآں کہوری/کمسیر اور چھپلانی نیلم روڈ پر 2 سرنگوں کی فزیبلٹی حکومت پاکستان تیار کرے گی۔ غیر حلقہ جاتی ارکان اسمبلی کے معاملے پر اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور حتمی رپورٹ تک ان کی مراعات و فنڈز معطل رہیں گے۔

 اضافی نکات میں بانجوسہ، مظفرآباد، پلندری، دھیرکوٹ، میرپور اور راولاکوٹ کے واقعات کو عدالتی کمیشن کے سپرد کرنا، میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ٹائم فریم رواں مالی سال میں طے کرنا اور جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس کو تین ماہ میں پنجاب و خیبرپختونخوا کے برابر لانا شامل ہے۔ اسی طرح ہائیڈل منصوبوں پر 2019 کے ہائی کورٹ فیصلے کے مطابق عملدرآمد ہوگا اور دس اضلاع میں بڑے واٹر سپلائی اسکیموں کی فزیبلٹی رواں سال مکمل کی جائے گی۔

 تمام تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں آپریشن تھیٹر اور نرسریز قائم ہوں گی، گلپور اور رحمان کوٹلی میں پل تعمیر ہوں گے۔ ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی جائے گی اور گلگت بلتستان و فاٹا طرز پر سہولت دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

 ڈڈیال کی کشمیر کالونی کے لیے واٹر سپلائی اسکیم اور ٹرانسمیشن لائن منظور کرلی گئی جبکہ مہندر کالونی کے مہاجرین کو ملکیتی حقوق دیے جائیں گے۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ٹرانسپورٹ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور 1300 سی سی گاڑیوں پر خصوصی غور ہوگا۔

 معاہدے کے تحت 2 اور 3 اکتوبر کے دوران گرفتار کشمیری مظاہرین رہا کیے جائیں گے۔ اس پر عملدرآمد کے لیے مانیٹرنگ اور امپلیمینٹیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو فیصلوں پر عملدرآمد اور تنازعات کے حل کو یقینی بنائے گی۔