ملک اشرف : ایک صدی سےزائد پراناوراثتی جائیداد کا تنازع، لاہور ہائیکورٹ نےفریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس محسن اخترکیانی نےصادق مسیح کی درخواست پرسماعت کی، جس میں 108سال پرانی جائیداد میں حصہ دینے سےمتعلق ٹرائل کورٹ کےفیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل کے مطابق، 1909 میں وساوا سنگھ کے دونوں بیٹوں کے نام وراثتی انتقال درج ہوا تھا، تاہم 1918میں ریونیوریکارڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک بیٹےکو غیر شادی شدہ قرار دیدیاگیااورمکمل جائیداد دوسرے بیٹےکےنام منتقل کردی گئی۔ اس اقدام کوچیلنج کیا گیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ100سال بعد جاری ہونیوالاڈیتھ سرٹیفکیٹ کس بنیاد پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نےریمارکس دیئےکہ ریکارڈ میں درخواستگزارکےدعوے کو ثابت کرنے کیلئےکوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔وکیل نےبتایاکہ فروری1947 میں جائیداددوسرے بیٹے بڈھا سنگھ کےورثاء کےنام منتقل ہوئی، جبکہ قیام پاکستان کے بعد زمین مہاجرین کوالاٹ کردی گئی۔
وقت گزرنےاورتاریخی حالات کےباعث دستاویزات کاحصول مشکل رہا، اسی لیےدعویٰ تاخیرسےدائر کیا گیا۔ عدالت نے666 ایکڑ اراضی پر دعوے اور طویل تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے اور استفسار کیا کہ اتنےعرصےتک اس جائیدادکوپہلےکیوں چیلنج نہیں کیا گیا۔درخواستگزار کے وکیل کے مطابق ، صادق مسیح نے2018 میں جائیداداپنےنام منتقل کرنےکیلئےدعویٰ دائرکیاتھا، جس پرسول کورٹ قصور نے2025 میں ان کےحق میں فیصلہ دیا، تاہم فروری 2026 میں ٹرائل کورٹ نے اس فیصلےکوکالعدم قرار دیدیا، جس کےبعدہائیکورٹ سےرجوع کیاگیا۔درخواستگزارنےاستدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےکراسے وراثتی جائیداد میں حصہ دیاجائے۔دلائل مکمل ہونےکےبعدہائیکورٹ نےفیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو جلدسنائےجانے کاامکان ہے۔