ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دہلی ہوٹل آتشزدگی۔۔5مسلمان نوجوانوں نے بہادری سے درجنوں افراد کی زندگی بچا لی

دہلی ہوٹل آتشزدگی۔۔5مسلمان نوجوانوں نے بہادری سے درجنوں افراد کی زندگی بچا لی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت دہلی کے مالویہ نگر میں ہوٹل میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران5مسلمان نوجوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر جلتی عمارت میں داخل ہو کر متعدد افراد کو بچایا۔ مقامی دکانداروں، رضاکاروں اور شہریوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ حادثے میں21افراد ہلاک ہوئے جبکہ 47 کو بچا لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں ہوٹل میں سنگین حفاظتی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے اور مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق  دہلی کے مالویہ نگر میں بدھ کو ایک ہوٹل میں لگنے والی تباہ کن آگ کے دوران5مسلم نوجوانوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر متعدد افراد کو موت کے منہ سے نکال لیا۔ بی جے پی کے مقامی  رکن اسمبلی ستیش اپادھیائے نے سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی جرات اور انسان دوستی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’ان بہادروں کو سلام۔‘‘ اپادھیائے کے مطابق افضل، محمد شاہ رخ، محمد انیس، محمد عامر اور محمد وسیم نے دہلی پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ جلتی ہوئی عمارت میں داخل ہو کر پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالا۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی بہادری کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مذہب، زبان اور شناخت سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کو بچانے کی یہ مثال انسانیت کی بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔

آتشزدگی کے دوران انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال پیش کرنیوالوں میں61سالہ ریاض الدین کا نام بھی شامل ہے  جو ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلاتے ہیں۔ آگ بھڑکنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر اپنی دکان سے تمام گدے نکال کر عمارت کے نیچے بچھا یئے تاکہ اوپر والی منزلوں سے چھلانگ لگانے والے افراد کو محفوظ لینڈنگ مل سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل میں ریاض الدین کو تقریباً 2 لاکھ روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ مطمئن ہیں کیونکہ ان کی کوششوں سے کم از کم 10 افراد کی جان بچ گئی۔ حادثے کے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھوئیں اور شعلوں میں گھرے افراد اوپری منزلوں سے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگا رہے تھے جبکہ نیچے موجود مقامی لوگ انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
لوگوں کی جان بچانے کے عمل میں حصہ لینے والوں میں قریبی رہائشی اور میکس اسپتال کے سیکوریٹی افسر وسیم رضا نے بھی امدادی کارروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے تہہ خانے سے تیسری منزل تک کم از کم دس افراد کو سی پی آر دیا۔اسی طرح 40سالہ محمد اسرار خان، جو آگ پر جزوی قابو پانے کے بعد عمارت کے اندر داخل ہوئے، نے بتایا کہ لوگ دھوئیں اور راکھ میں لپٹے ہوئے تھے۔ کئی افراد مدد کے لیے چیخ رہے تھے۔ ہم نے زخمیوں کو باہر نکالا اور کئی لاشوں کو چادروں میں لپیٹ کر منتقل کیا۔فائر ایمرجنسی ٹرینر محمد شعیب نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق، امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے تقریباً 9 افراد عمارت سے چھلانگ لگا چکے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی بہادری کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مذہب، زبان اور شناخت سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کو بچانے کی یہ مثال انسانیت کی بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔

حکام کے مطابق آگ سے مجموعی طور پر 47افراد کو زندہ نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ21افراد جان کی بازی ہار گئے۔ مرنے والوں میں متعدد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں 9افریقی ممالک اور دو ترکمانستان کے شہری شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں سنگین حفاظتی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہوٹل فائر ڈپارٹمنٹ کی لازمی منظوری کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے ہوٹل کے مالک لوکیش بجاج کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔