علی ساہی: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شہریوں پر پراپرٹی، موٹر اور پروفیشنل ٹیکس کی مد میں اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز کو محصولات میں نمایاں اضافے کے لیے مختلف تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز نے اگلے مالی سال کے لیے 135 ارب روپے محصولات کی وصولی کے ہدف کے حصول کی خاطر اپنی تجاویز ریسورس موبلائزیشن کمیٹی کو بھجوا دی ہیں۔ محکمہ کو موجودہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد زیادہ وصولیاں یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں دی گئی 75 فیصد رعایت ختم کرکے مکمل وصولی کی تجویز زیر غور ہے۔ گزشتہ سال پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا نظام اینول رینٹل ویلیو سے کیپٹل ویلیو کی بنیاد پر منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد رواں مالی سال میں 25 فیصد اضافی وصولیاں حاصل ہوئیں۔
حکومتی منصوبے کے مطابق پراپرٹی ٹیکس میں مجموعی طور پر 100 فیصد اضافے کو چار سال میں مرحلہ وار نافذ کیا جانا تھا، جس کے تحت ہر سال 25 فیصد اضافہ ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق 75 فیصد رعایت کے خاتمے سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں تقریباً 60 ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکتی ہے۔
مزید برآں موٹر گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں 50 فیصد اور رجسٹریشن فیس میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسی طرح پروفیشنل ٹیکس کی کم از کم شرح 200 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کاٹن فیس کی کم وصولی کی وجوہات دور کرنے اور اس مد میں آمدن بڑھانے کے لیے بھی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ تاہم ان تمام سفارشات پر ریسورس موبلائزیشن کمیٹی میں غور کے بعد حتمی فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔