اسٹیٹ بنک کے باہر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت جاری

اسٹیٹ بنک کے باہر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت جاری

(حسن علی) اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے عوام کو عید الفطر پر نئے کرنسی نوٹس جاری کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، شہریوں کو بنکوں سے تو نئے نوٹ مل نہ سکے جبکہ نئے نوٹس کی اسٹیٹ بنک کی عمارت کے باہر دھڑلے سے بلیک میں فروخت جاری ہے۔

اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ایس ایم ایس سروس کے ذریعے مختلف بنکوں نے تیس لاکھ افراد کو 54 ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ ادا کیے، اسٹیٹ بنک کے اعداد و شمار تو اپنی جگہ لیکن شہریوں کو بنکوں سے نئے کرنسی نوٹس نہ مل سکے، جبکہ یہی کرنسی نوٹس اسٹیٹ بنک کی عمارت کے باہر بلیک میں فروخت کیے جا رہے ہیں، 10 روپے والی نئے نوٹوں کی گڈی پر اڑھائی سو روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ 20 روپے کی گڈی پر تین سو، پچاس روپے والی گڈی پر تین سو اور ایک سو والے نئے نوٹوں کی گڈی پر بھی 300روپے زائد وصول کیے جارہے ہیں۔

اسٹیٹ بنک کے باہر بلیک میں نوٹ فروخت کرنے والے کیمرے کا سامنا تو نہ کرسکے لیکن انکا کہنا ہے کہ انہیں یہ نئے نوٹ اسٹیٹ بنک اور مختلف بنکوں کے ملازمین فروخت کرنے کے لیے دیتے ہیں، جس میں ان ملازمین کا بھی کمیشن ہوتا ہے۔

دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ عید پر بچوں کو عیدی دینی ہوتی ہے جس کے لئے نئے نوٹ ہی اچھے لگتے ہیں، تاہم بنکوں سے نئے نوٹ نہیں ملے تو مجبوراً زائد پیسے ادا کر کےاسٹیٹ بنک کے باہر سے نئے نوٹ خریدنے پڑ رہے ہیں۔

بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی نئے کرنسی نوٹ خریدنے اسٹیٹ بنک کے باہر پہنچنے، بچوں کا کہنا ہے کہ انہیں عیدی نئے نوٹوں کی ہی چاہیے۔

ہر سال عید سے قبل اسٹیٹ بنک کی جانب سے شہریوں کو نئے کرنسی نوٹس کی مختلف کمرشل بنکوں سے فراہمی کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن ان نئےنوٹس کی فراہمی کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا جاتا، اسی لئےنئےکرنسی نوٹس کی بلیک میں فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔

Sughra Afzal

Content Writer