ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہمیں پاکستان کے ساتھ ترکی اور چین نے بھی پیٹا؛ انڈین فوج کے ڈپٹی چیف کا واویلا

Pakistan India may 10 war , aftermaths , Pakistan China cooperation, Turkey;s drown technology
کیپشن: یہ تصویر 25 اپریل 2025 کو پاک بھارت سرحد پر اٹاری واہگہ کراسنگ پر بنائی گئی جہاں  ہندوستانی بی ایس ایف کے سیکورٹی اہلکار پہرے میں کھڑے دکائی دے رہے ہیں۔ بھارت کی حکومت نے 22 اپریل کو پاکستان پر جارحیت کے لئے پہلگام کا ناٹک رچا کر اپنے ہی شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیا اس کے دو ہفتے بعد پاکستان پر حملہ کیا، اس حملے کا جواب اس قدر ہمہ گیر برباد کن تھا کہ اب دو مہینے بعد بھی بھارت حقیقت کا اعتراف نہیں کر پا رہا کہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ طاقتور فوجی قوت ہے، اب تک اپنی  الم ناک شکست کی الٹی سیدھی تاویلیں ہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  آپریشن بنیانن موصوص جدید وارفئیر میں نہ بھول پانے والی مختصر جنگ تھی جس کے بارے میں پاکستان کے عساکر کے سربراہ نے پہلے کہا تھا کہ بھارت نے جارحیت کی تو وہ مدتوں تک اس کے نتیجے کو بھول نہیں پائے گا، اب ایسا ہی ہو رہا ہے، آج انڈین آرمی کے ایک سینئیر افسر نے روتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی اور چین نے  ہماری پٹائی کرنے مین پاکستان کی مدد کی تھی۔

ہندوستانی فوج کے سینئیر  اہلکار  لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے ہندوستان کے ساتھ تنازع میں لائیو ان پٹس (live in-puts) کے ساتھ پاکستان کی مدد کی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل سنگھ  بھارت کی آرمی کے ڈپٹی چیف ہیں۔ نئی دہلی میں دفاعی صنعت کی ایک تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے شکایت کی کہ ترکی نے پاکستان کو اہم مدد فراہم کی، اس نے پاکستان کو  ڈرون سے لیس کیا، اور "تربیت یافتہ افراد" بھی دیئے۔
جو باتین جنرل راہول سنگھ نے نہیں بتائیں وہ پاکستان کے ذمہ دار ذرائع پہلے ہمیں بتا چکے ہیں؛ پاکستان کو پہلگام فالس  فلییگ آپریشن سے پہلے ہی بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت کے پلان کی اطلاع ہو گئی تھی، پاکستان نے پہلگام فلاس فلیگ آپریشن سے پہلے ہی ترکی کے بنے ہوئے جدید ترین اَن مینڈ وہیکل (ڈرون) حاصل کرنے کے لئے خصوصی ایفرٹ کی تھی، اس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم بھارت کی جارحیت سے کچھ روز پہلے خاص طور سے انقرہ گئے تھے اور  انہوں نے ترکی کی قیادت کو ذمہ دار دوست ریاست کی حیثیت سے اعتمال مین لیا تھا اور بتایا تھا کہ بھارت کی سازشی قیادت کیا کھچڑی پکا رہی ہے اور اگر بھارت جارحیت کے اس منسوبے سے باز نہ آیا تو پاکستان اسے نہ بھولنے والا سبق سکھائے گا۔  بھارت کے 6 مئی کے جارحانہ حملے سے پہلے پاکستان کی  دانت توڑنے والا جواب دینے کی تیاری مکمل تھی اور ترکی کی اعلیٰ قیادت اس سے آگاہ تھی۔ اس تیاری میں ترکی کے وہ ڈرون بھی شامل تھے جنہوں نے بعد میں  10 مئی کی صبح پاکستان کے دوسرے جواب کے دوران نئی دہلی سے تک ساری بھارتی فضاؤں کو مسخر کئے رکھا اور کسی بھی ہتھیار سے زیر نہیں ہوئے تھے۔

Caption یہ بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں پٹی ہوئی فوج کے ڈپٹی چیف جنرل راہل سنگھ ہیں جو بچوں کی طرح روتے ہوئے ایک ڈیفینس کانفرنس مین یہ بتا رہے تھے کہ ترکی نے ڈرون دیئے اور چین نے رئیل ٹائم انفارمیشن دی۔۔۔ اور پاکستان نے ہمیں بہت پیٹا

پاکستان سے آپریشن بنیانن مرصوص میں کھائی ہوئی مار کو لے کر بھارت کے اس سینئیر فوجی اہلکار نے اپنی حکومت سے فوری طور پر "فضائی دفاعی اپ گریڈیشن" کا مطالبہ بھی کیا ہے۔  6  اور 7 مئی کی درمیانی شب جب انڈیا کی ائیر فورس نے کسی وہم میں مبتلا ہو کر پاکستان کے اندر چھ سات سویلین اہداف (عمواً مساجد) پر  حملے کئے تو پاکستان نے اپنی ائیر فورس کے ذریعہ صرف جارحیت میں شامل بھارتی طیاروں کے ساتھ ڈوگ فائیٹ کرنے پر اکتفا کیا تھا اور بھارت کے چھ طیارے گرانے تک ہی اپنے جواب کو محدود رکھا تھا۔ لیکن جب   9 مئی  کو انڈیا نے پاکستان کے تین ائیر بیسز پر براہ راست میزائل حملے کر کے اپنی سات مئی کی ذلت کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے اپنے میزائل،  لڑاکا طیارے، ڈرون اور باقی بہت کچھ بھی استعمال کر کے بھارت کو وہ سبق سکھایا جس کے بارے مین پاکستان اپنے دوستوں کو بہت دن پہلے آگاہ کر چکا تھا۔ اس سبق سکھانے کی کارروائی کے دوران پاکستان نے بھارت کی دو ایس 400 میٹریز بھی خاکستر کر دیں، خلائی سیاہ غیر مؤثر کر دیا، انٹرنیٹ کمیونیکشن کو ڈسرپٹ کر دیا اور اہم ترین ڈیفینس انسٹالیشنز کو چن چن کر تباہ کیا۔  اپنی جنگ شروع کرنے کے ایک ہی گھنٹے بعد پاکستان کی فوج نے اعلان کر دیا تھا کہ ہم دہلی تک بھارت کا ائیر ڈیفینس برباد کر کے فضا پر قبضہ کر چکے ہیں، نئی دہلی تک سب کچھ ہمارے لئے سامنے بیٹھی بطخ جیسا ہے جسے نشانہ بنانا کوئی بڑی ڈیل نہیں۔ اس مکمل برتری کے باوجود پاکستان نے جدید وارفئیر کے ذمہ دار شہ زور کا کردار نبھایا اور دشمن کو غیر ضروری بربادی سے دوچار نہیں کیا۔
اب بھارت کی ڈپٹی آرمی چیف رو رو کر بتا رہے ہیں کہ  چین نے بھی اس جنگ مین پاکستان کو رئیل ٹائم  اِن پٹ دیئے تھے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہندوستان نے چین سے معلومات کیسے حاصل کیں۔

جنرل سنگھ نے حوالہ دیا کہ پاکستان نے کہ  تھا کہ وہ ہمارے اہم ویکٹر کے مقامات کو جانتے ہیں۔ جنرل سنگھ کا یہ انکشاف پاکستان کے باخبر لوگوں کے لئے انکشاف نہیں کیونکہ پاکستان واقعی سات مئی کی مختصر جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو واضح الفاظ میں بتا چکا تھا کہ جارحیت کو دہرانے کی صورت مین کیا ہو گا، پاکستان نے بتایا تھا کہ کن کن علاقوں مین بھارت کے تمام اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا  کر "اہداف کو لاک" کر دیا گیا ہے، یعنی پاکستان جب ضرورت سمجھے گا ان اہداف پر  تباہ کر ڈالنے والے حملے لانچ کر دے  گا۔ اور جب بھارت ہٹ دھرم جارحیت سے باز نہیں آیا تو پاکستان نے ایسا ہی کیا تھا اور انتہائی مختصر وقت میں دشمن کے حواس مختل کر ڈالنے والے مسلسل حملے کئے تھے کیونکہ سب کچھ پہلے سے تیار تھا، صرف دشمن کی حماقت کا انتظار تھا۔
اب اس ذلت آمیز سزا کے زخم سہلاتے پونے دو مہینے گزر جانے کے بعد بھارت کے ڈپٹی آرمی چیف نے پاکستان کی جدید وارفئیر کی اس بے مثل مہارت کا سہرا چین کے سر باندھ کر اپنی  خفت اور اپنے حواس باختہ سٹریٹیجک اتحادیوں کی سراسیمگی کم کرنے کی بچگانہ کوشش کی ہے۔ 

جنرل سنگھ نے الزام لگایا کہ  مئی میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے مہلک تنازعے کے دوران چین نے اسلام آباد کو اہم ہندوستانی عہدوں پر "لائیو ان پٹ" دیئے تھے۔

جنرل سنگھ نے آنسؤں کے بغیر روتے ہوئے کہا، تنازعہ کے دوران ہندوستان نے دو مخالفوں کا مقابلہ کیا، جس میں پاکستان "سامنے کا چہرہ" تھا جبکہ چین نے "ہر ممکن تعاون" فراہم کیا۔

جنرل راہلو سنگھ نے دو مہنے کے بعد رو کر یہ بھی بتا دیا کہ "جب ڈی جی ایم او (ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز) کی سطح پر بات چیت چل رہی تھی، پاکستان نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کا فلاں فلاں اہم ویکٹر پرائم ہے اور وہ کارروائی کے لیے تیار ہے… جنرل راہو سنگھ نے شکایت کی کہ  اسے چین سے براہ راست معلومات مل رہی تھیں۔" 

تاہم، سنگھ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ہندوستان کو چین سے پاکستان کو لائیو ان پٹس  ملنے کے بارے میں کیسے معلوم تھا یا  یہ اس کا محض گما ن ہی ہے کہ پاکستان اپنے طور پر یہ نہین جان سکتا کہ بھارت کے براہموس میزائل کے ذخیروں کو کیسے نشانہ بنانا ہے اور ایس چار سو بیٹریوں کو راکھ کیسے کرنا ہے۔

چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد کشیدہ ہ ہیں جس نے چار سال تک فوجی تعطل کو جنم دیا تھا، لیکن اکتوبر میں دونوں ممالک کے پیچھے ہٹنے کے معاہدے پر پہنچنے کے بعد تناؤ کم ہونا شروع ہوا۔

چین کے ساتھ بھارت کے سرحدی تنازعہ کے دوران ہونے والی جھڑپیں جدید وافئیر کا ایک اور  غیر معمولی چیپٹر تھیں، ان جھڑپوں کے دوران چین کی فوج کے کنگ فو  کے ماہر کمانڈوز نے خالی ہاتھوں سے پیٹا تھا اور درجنوں کی ہڈیاں توڑ کر ناکارہ بنا دیا تھا۔  سرحدی علاقوں سے ناکارہ فوجیوں کو واپس لے جانے والے سٹریچر تھوڑے پر گئے تھے۔

پہلے انڈیا کو چین کی کسی حقیقی مدد کا کوئی اشارہ نہ ملا، اب شکست کا مدا چین پر ڈال دیا

ہندوستان نے پہلے خود اعلان کیا  تھا کہ اگرچہ پاکستان چین کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے لیکن اس تنازعہ کے دوران بیجنگ کی طرف سے کسی حقیقی مدد کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

چین کی جانب سے سیٹلائٹ کی تصاویر یا دیگر  رئیل ٹائم انٹیلی جنس فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں، ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے کہا تھا کہ اس طرح کی تصاویر تجارتی طور پر دستیاب ہیں اور چین یا کسی بھی ذریعہ سے منگوائی جا سکتی ہیں۔

پاکستانی حکام اس سے پہلے انڈیا کے ساتھ  تنازع میں چین کی جانب سے فعال مدد حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔

بیجنگ، جس نے مئی میں مختصر جنگ کے بعد امریکہ کی مدد سے ہوئی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا تھا، 2013 سے سرمایہ کاری اور مالی مدد سے پاکستان کی مشکلات کا شکار معیشت کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت سے چین سمیت باقی دنیا کو یکساں طور پر حیران کر رہا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے جنگ بندی کے چند دن بعد اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات میں بھی پاکستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے حمایت کا عزم کیا تھا۔ چین کی یہ مدد بیشتر سفارتی سطح پر ہے اور اقتصادی مشکلات سے نمٹنے کے لئے محدود نوعیت کی مالیاتی معاونت  کے ضمن میں ہے۔

دریں اثنا، بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے یہ بھی الزام لگایا کہ ترکی نے لڑائی کے دوران پاکستان کو کلیدی مدد بھی فراہم کی، اسے بائریکٹر اور "متعدد دیگر" ڈرونز اور "تربیت یافتہ افراد" سے لیس کیا۔

انقرہ کے اسلام آباد کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، اور ترکی نے جھڑپ کے دوران اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ بھارت نے مئی 10 کو پاکستان سے مار کھانے کے بعد ترکی پر غصہ اتارنے کے لئے جو بچگانہ حرکتیں کیں ان میں ہندوستانیوں کو "ترکی کی کافی" کا استعمال بند کرنے سے لے کر  ترکی میں تفریحی چھٹیوں کے لئے جانے سے روکنے  کی تبلیغ  جیسی حرکتیں شامل تھیں۔

ترک وزارت دفاع نے نیوز ایجنسی  کی جانب سے بھاری جنرل کے الزامات پر  تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

نئی دہلی سے بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کے الزامات کو رپورٹ کرنے والی انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں، پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کا نام "آپریشن بنیان-ام-مرسوس" تھا اور متعدد خطوں میں متعدد بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

پاکستان نے (اس سے پہلے) انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل اور درجنوں ڈرون بھی شامل ہیں۔ کم از کم 87 گھنٹوں کے بعد، دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان جنگ 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی۔

جنگ بندی کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر واشنگٹن کی طرف سے دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا تھا، لیکن بھارت نے ٹرمپ کے ان دعوؤں سے اختلاف کیا ہے کہ یہ ان کی مداخلت اور تجارتی مذاکرات کو ختم کرنے کی دھمکیوں کا نتیجہ ہے۔

تاہم، پاکستان نے ٹرمپ کی کوششوں کو تسلیم کیا  اور گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں ان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے، 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر ان کی سفارش کی ہے۔