( سٹی 42) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں، میں کسی مکتبہ فکر کے خلاف بھی نفرت کی بات نہیں کرتا، میں سیاسی کارکن ہوں کبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا۔جب تک سیاسی بحران نہیں ٹلے گا کوئی بھی معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا ۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پریس کلب حیدرآبادکے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں ایسی شامیں کسی اور ملک میں نہیں، حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، حیدرآباد: میں کسی مکتبہ فکر کے خلاف بھی نفرت کی بات نہیں کرتا، میں سیاسی کارکن ہوں کبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں، جب تک سیاسی بحران نہیں ٹلے گا کوئی بھی معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا ، سیاسی بحران ٹلے گا تو معاشی بحران بھی ٹل جائے گا ، موجودہ حالات پر سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں ،بحران جب ملک کو ہلا رہے ہوں تو صرف حکومت کا ہی کردار نہیں رہتا اپوزیشن کا کردار بھی ذمہ داری بن جاتا ہے ،
مولا بخش چانڈیو کا مزید کہنا تھا پی ٹی آئی کے رہنما اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کر بھاگ گئے ،اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جو کہ وہ کر نہیں رہی ، یہ نہ مفاہمت کا راستہ لیتے ہیں نہ جنگ کا لیتے ہیں ، پی ٹی آئی والے بانی پر جان قربان کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن موقف بھی واضح نہیں کرتے ، جو کام سیاسی جماعتوں کا ہے انہوں نے وہ سارا بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے ، سیاسی جماعتیں بھی تو اپنا کردار ادا کریں ، اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مذید عزت دے لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، اگر حکومت ٹھیک نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو کود کر میدان میں آجانا چاہیے اور ملک کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، پیپلز پارٹی اشاروں کناروں میں کردار ادا کرنے کی بات ضرور کرتی ہے۔