سٹی42: حماس نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے 15 فلسطینی قیدیوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
سعودی عرب کی نیوز آؤٹ لیٹ عرب نیوز نے حماس کے ترجمان خالد قدومی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے جن فلسطینیوں کو رہا کیا ہے ان میں سے 79مصر پہنچے ہیں, 15 قیدی رہا ہونے کے بعد مصر چلے گئے ہیں اور پندرہ قیدی پاکستان کی میزبانی میں رہیں گے۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ مصر ، ترکیہ، الجزائر، ملائیشیا، پاکستان اور انڈونیشیا نے رہا ہونے والے قیدیوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان 15 فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کرے گا۔ حماس کے ترجمان نے کہا، اس بات پر ہم پاکستانی حکومت، پاکستانی عوام اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان صرف بھائی نہیں بلکہ بڑا بھائی ہے جس کا ہمارے ساتھ روحانی تعلق ہے جو ہمیشہ القدس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔
پاکستان نے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کی اب تک سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے لاعلمی ظاہر کی، یروشلم پوسٹ کی خبر
یروشلم پوسٹ نے منگل کے روز انڈیپینڈنٹ اردو کی سٹوری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حماس نے پیر کو کہا کہ پاکستان نے حالیہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی حراست سے رہا ہونے والے 15 فلسطینی قیدیوں کی میزبانی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم، پاکستان کی وزارت داخلہ نے انتظامات کے بارے میں کسی علم سے انکار کیا ہے، اور وزارت خارجہ نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے اردو زبان کے ایڈیشن "انڈیپنڈنٹ اردو "سے بات کرتے ہوئے حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر ان کی تعداد 15 ہوگی، تاہم ان کی پاکستان آمد کی ٹائم لائن ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق، پاکستان جانے کا ارادہ رکھنے والے فلسطینی مصر اور ترکی کے راستے گزریں گے، حالانکہ وہ ابھی تک مصر سے نہیں نکلے ہیں۔
القدومی نے مزید کہا کہ "مصر، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا اور الجزائر سمیت متعدد اسلامی ممالک نے طوفان الاحرار معاہدے کے تحت رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کے ایک گروپ کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس وقت ان ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
اسرائیل کی جیلوں سے رہا کئے جانے والے بعض قیدیوں کو فلسطین میں رکھنے کی بجائے پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا کیوں بھیجا جا رہا ہے، کیا ااسرائیل کی جیلوں سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں رہا کئے جانے والے بعض قیدیوں کو فلسطین سے باہر رکھنا دوحہ میں ہونے والی ہوسٹیجز ڈیل کا حصہ ہے؟ ان قیدیوں کو پاکستان اور دوسرے ملکوں میں کس حیثیت سے رکھا جائے گا، کیا مبینہ میزبان ملکوں نے ان حال ہی میں رہا ہونے والے فلسطینیوں کو اپنے ہاں رکھنے کی خود پیشکش کی ہے یا ان سے کسی نے درخواست کی ہے۔ کیا یہ فلسطینی اتھارٹی کی درخواست ہے یا پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک براہ راست حماس کے ساتھ اس نوعیت کے رابطہ میں ہیں؟ اس نوعیت کے کئی اہم سوال سر اٹھا رہے ہیں تاہم پاکستان مین سر دست کسی کے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے۔ سامنے صرف حماس کے ترجمان کا بیان ہے جس کے متعلق پاکستان کے سرکاری ادارے سر دست خاموش ہیں۔