سٹی42: ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس پہنچنے کے صرف دو ہفتے بعد ہی امریکی بیوروکریٹ سر پر بانہہ رکھ کر رونے لگے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے فنانسر ایلون مسک کی نادیدہ طاقت اور غیر مرئی اختیارات دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت کی بیوروکریسی کیلئے سب سے بڑی پریشانی بن گئے۔
ایلون مسک ایک تو دنیا کا سب سے امیر آدمی ہے ، دوسرے وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فنانسر ہے اور ٹرمپ اس کی باتیں مانتے بھی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غالباً ایلون مسک کو امریکہ کی بیورو کریسی کو سبق سکھانے کے لئے ہی نام نہاد ادارہ ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی (DOGE) کا سربراہ بنایا، ایلون مسک نے اس ادارہ کا چارج لیتے ہی اسے سپر گورنمنٹ سمجھ لیا اور اس ادارہ کے کوڑے سے امریکہ کے اداروں کے ذمہ داروں (بیوروکریٹس) کو پیٹنے لگے ہیں۔ ابھی اس پٹائی کا آغاز ہی ہوا ہے کہ واشنگٹن کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے سرکاری اداروں کے کوریڈورز سے آہوں اور سسکیوں کی آوازوں کے ساتھ شکایت بھری سرگوشیوں کی آوازیں بلند ہو کر میڈیا آؤٹ لیٹس تک پہنچنے لگی ہیں۔
مسک کی جانب سے چند دنوں میں امریکی سرکاری اداروں میں جارحانہ مداخلت اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبریں سامنے آئیں اور اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی سامنے آنے لگی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیوریٹ مشیر ایلون مسک کے بڑھتے اختیارات سے بیوروکریسی پریشانی کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ کے حلف لیتے ہی ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی (DOGE) کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے چند دنوں میں امریکی سرکاری اداروں میں جارحانہ مداخلت اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبریں سامنے آئیں۔
ایک مؤقر میڈیا آؤٹ لیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایلون مسک اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حلف لینے کے بعد صرف 2 ہفتوں میں ہی ایفیشنسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مسک نے نہ صرف حساس مالیاتی ڈیٹا سسٹم تک زبردستی رسائی حاصل کی بلکہ اس دوران متعلقہ حکام اور قائم کردہ پروٹوکولز کو بھی نظر انداز کیا۔
اخبار نے لکھا کہ ٹرمپ کی جانب سے اختیار ہونے کی وجہ سے ایلون مسک خود مختاری کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں۔ وہ اکثر کاموں میں طے شدہ مواصلاتی اور فیصلہ سازی چینلز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ایلون مسک کے ذاتی مالی مفادات اور چین کسمیت دنیا کے کئی ملکوں کے ساتھ ایلون مسک کے گہرے کاروباری تعلقات "مفادات کے ٹکراؤ" جیسی صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔
as امریکی اخبار کے مطابق ایلون مسک کے حکومت سے بہت سے مالی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے ایک (غیر منتخب) نجی شخص کی حیثیت سے کیے جانے والے کام , جن میں بہت سے اداروں کی اور جاری پروگرامز کی، جیسے کہ یو ایس ایڈ (US-AID) کی بندش شامل ہیں, یہ سب طاقت کے غیر معمولی استعمال کی علامت ہیں۔
مسک کی ایفیشنسی ڈپارٹمنٹ ٹیم نے بہت سے اہم حکومتی امور انجام دینے والے اداروں کا کنٹرول خود ہی سنبھال لیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مسک حکومتی عہدوں پر اہم تقرریوں پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک مثال یہ دی جا رہی ہے کہ ایلون مسک ٹرائے مینک کے ائیر فورس سیکرٹری کے عہدہ پر تقرر کی وکالت کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ ائیر فورس کے آپریشنز سے بھی ایلون مسک کے کاروباروں کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے کیونکہ وہ خلا میں نجی سیاحت کے سب سے بڑے انویسٹر ہیں اب خلائی سیاحت کے میدان میں ایلون مسک کو ایک اور دولتمند بزنس مین جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کے مقابلہ کا بھی سامنا ہے جسنے اپنا پہلا راکٹ خلا میں بھیج دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کی اتھارٹی (قانونی حیثیت) کو چلینج کرنے کے لیے اب تک 4 مقدمات امریکی عدالتوں میں دائر کیے گئے جن میں وفاقی قوانین کی خلاف ورزی اور کانگریس کے اختیارات سے تجاوز کا الزام لگایا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ ایلون مسک ایسی وسیع خود مختاری سے کام کررہے ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایلون مسک اپنی ملکیتی کمپنیوں کے ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم کے ساتھ کام رہے ہیں، اپنے سٹاف سمیت وہ وائٹ ہاؤس سے کچھ دور قائم بلاک میں فیڈرل پرسنل آفس میں کام کر رہے ہیں تاکہ وہ رات دیر تک کام کرسکیں اور ضرورت پڑنے پر وہیں سو جائیں۔