سٹی42: متنازعہ یو ٹیوبر محمد علی کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے سردیوں کی چھٹیوں کے خاتمہ تک معطل رہےگی۔
اٹارنی جنرل سے کہیں کہ وہ عدالت میں پیش ہوکر ریاست کا مؤقف پیش کریں یہ بہت اہم معاملہ ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ/ فائل فوٹو
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہلم کے متنازعہ یو ٹیوبر محمدعلی مرزا کو گستاخی کامرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر حکمِ امتناع برقرار رکھتے ہوئے ریاست کا مؤقف مانگ لیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں محمدعلی مرزا کو گستاخی کامرتکب قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کہ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوکر ریاست کا مؤقف پیش کریں۔ یہ بہت اہم معاملہ ہے، ہم دیکھ لیں کہ ریاست کی اِس متعلق تشریح کیا ہے۔
اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے کل بدھ کے روز گستاخی کے مقدمہ میں گرفتار محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرلی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے انجینئر محمد علی مرزا کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ اس ضمانت کے مقدمے کی سماعت لاہور ہائی کورٹ راول پنڈی بینچ کے جج جسٹس صداقت علی خان نے کی، انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہے۔ متنازعہ باتین کر کے شہرت حاصل کرنے والے عادی تنازعہ باز انجینئیر محمد علی مرزا نے اس مرتبہ مسیھی مذہب کے پیروکاروں پر بھیانک نوعیت کا الزام لگایا تھا جس سے نہ صرف مذاہب کی توہین ہوئی بلکہ پاکستان کی مسیحی اقلیت کی سکیورٹی کا سنگین مسئلہ تک پیدا ہو سکتا تھا۔
اس ضمانت کی منطوری سے پہلے ملزم انجینئیر محمد علی مرزا کے وکیلوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی "رائے کو معطل کرنے" کی منفرد نوعیت کی درخواست دائر کر رکھی تھی جس پر 20 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے واقعی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو "معطل" قرار دے دیا اور اسے 4 دسمبر تک معطل رکھنے کا حکم دیا تھا۔ آج 4 دسمبر کو جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو دوبارہ معطل قرار دے دیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے متعلق ریاست کا مؤقف جاننے کی بھی ضرورت قرار دی اور اس مقصد کے لئے اٹارنی جنرل کو بلایا لیکن عدالت نے اس اہم معمالہ کو اتنا سرسری لیا کہ آئندہ سماعت سردیوں کی چھتیوں کے بعد رکھ دی ہے تب تک اسلامی نظریاتی کونسل کی یہ ""رائے معطل" رہے گی کہ محمد علی مرزا واقعی جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ حالانکہ کامن سینس کے مطابق رائے جب رائے بنانے کے ضرورت مند افراد تک پہنچ چکی ہے تو "رائے" کا کام پورا ہو چکا ہے، اب اس کا معطل ہونا عملاً لایعنی امر ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں انجینیئر محمد علی مرزا کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست بھی منظور کر لی تھی۔
آج سماعت کے دوران جسٹس محسن کیانی نے وکیل سے پوچھا، کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے صدر، گورنر، پارلیمان کو بھیجی جاسکتی ہے، کونسل کے رولز میں رائے صرف پارلیمان کو بھیجنے کا تذکرہ ہے، جسٹس مھسن کیانی نے کہا، پارلیمان کو معاملہ بھیجنا تھا آپ نے ایک ایس ایچ او کو کیسے بھیج دیا؟
اسلامی نظریاتی کونسل کا وکیل عدالت مین موجود تھا، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہماری ہر رائے پارلیمنٹ کو ہی جاتی ہے،کوئی بھی چیز ہو وہ وہاں پیش کی جاتی ہے۔
متنازعہ شخصیت محمد علی مرزا کے وکیل نے عدالت میں یہ غیر ضروری بیان دیا, ـ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس کوئی کام ہے نہیں، یہ اپنا جواز بنانے کیلئے یہ کچھ کرتے ہیں۔ـ
بعد ازاں جسٹس محسن اختر کیانی نے محمد علی مرزا کو گستاخی کامرتکب قراردینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی اس رائے پر حکمِ امتناع برقرار رکھا کہ محمد علی مرزا گستاخی اور توہین کا مرتکب ہوا گیا ہے۔ جسٹس کیانی نے اس اہم کیس کی سماعت موسمِ سرما کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔